54

8 سال بعد سانحہ بلدیہ فیکٹری کیس کا فیصلہ ، رحمان بھولا اور زبیرچریا کو سزائے موت سنادی گئی

کراچی :(الشامی نیوز ) انسداد دہشت گردی عدالت نے سانحہ بلدیہ فیکٹری کیس میں رحمان بھولا اور زبیر چریا کو سزائےموت سنادی جبکہ رؤف صدیقی کو بری کرتے ہوئے حمادصدیقی کو مفرور قرار دے دیا۔ سانحہ بلدیہ فیکٹری میں 259افرادزندہ جلا دیے گئے تھے۔

تفصیلات کے مطابق انسداد دہشت گردی عدالت میں سانحہ بلدیہ کیس کی سماعت ہوئی ، ملزمان رحمان بولا اور زبیر چریا کو عدالت میں پیش کیا گیا جبکہ ایم کیوایم کےرؤف صدیقی بھی عدالت میں پیش ہوئے۔

انسداد دہشت گردی عدالت نے 8 سال بعد سانحہ بلدیہ کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے رحمان بھولا اور زبیر چریا کو سزائے موت سنا دی جبکہ رؤف صدیقی کو بری کرتے ہوئے 4 ملزمان کو عمر قید کی سزا سنائی۔

عدالت نے سانحہ بلدیہ فیکٹری کیس کے فیصلے میں حمادصدیقی کو مفرور قرار دے دیا۔

گذشتہ سماعت میں عدالت نے دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کر لیا تھا، عدالت نے سوال کیا تھا عدالت کو بتایا جائے کتنی لاشوں کاپوسٹ مارٹم ہوا؟ تفیشی افسر نے بتایا 259 لاشوں کاپوسٹ مارٹم کیا گیا تھا، کچھ انسانی عضاالگ تھے ان کا بھی پوسٹ مارٹم کیا گیا۔

یاد رہے بلدیہ فیکٹری کیس رحمان بھولا، زبیرچریااوردیگرملزمان نامزد تھے جبکہ حماد صدیقی اور علی حسن قادری اشتہاری ہیں جبکہ کیس میں نامزدرؤف صدیقی اور دیگرملزمان ضمانت پر رہا تھے۔

فروری 2017 میں اس کیس میں ایم کیو ایم رہنما رؤف صدیقی، رحمان بھولا، زبیر چریا اور دیگر پر فرد جرم عائد کی گئی تھی جبکہ کیس میں 768 گواہوں کے نام شامل ہیں، جن میں 400 سے زائد گواہوں کے بیانات قلمبند کئے گئے۔

یاد رہے کہ کراچی کے علاقے بلدیہ ٹاون میں 11 ستمبر 2012 کو خوفناک آتشزدگی کا واقعہ پیش آیا تھا، جس میں 260 کے قریب ملازمین جل کر خاکستر ہوگئے تھے۔

بعد ازاں سانحہ بلدیہ کی جے آئی ٹی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا تھا کہ فیکڑی میں آتشزدگی کا واقعہ پیش نہیں آیا بلکہ 20 کروڑ روپے بھتہ نہ دینے پر بلدیہ فیکٹری کو آگ لگائی گئی۔

عبدالرحمان بھولا نے اپنے بیان میں اعتراف کیا تھا کہ اس نے حماد صدیقی کے کہنے پر ہی بلدیہ فیکٹری میں آگ لگائی تھی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں