59

گیس کمپنیوں کو الگ الگ کاروبار کی شاخوں میں بانٹنے سے متعلق فیصلہ آئندہ چند روز میں متوقع

سی سی او ای کو سمری میں پیٹرولیم ڈویژن نے اصلاحات کے ایجنڈے کے حصے کے طور پر پانچ بڑے اقدامات کی منظوری طلب کی ہے۔ — فائل فوٹو:ڈان

اسلام آباد:(الشامی نیوز) کنسلٹنٹس، ماہرین اور اہم اسٹیک ہولڈرز کی مخالفت کے دوران کابینہ کمیٹی برائے توانائی (سی سی او ای) کے اجلاس میں گیس کی دو یوٹیلیٹیز کمپنیوں کو سابق واپڈا کی 13 جنریشن، ترسیل اور تقسیم کار کمپنیوں کی طرز پر 5 چھوٹی کمپنیوں، ایک ٹرانسمیشن اور چار صوبائی تقسیم کار کمپنیوں میں بانٹنے کی تجویز پر بحث ہوگی۔

تفصیلات کے مطابق سی سی او ای کو ایک سمری میں وزارت توانائی کے پیٹرولیم ڈویژن (ایم ای پی ڈی) نے آئی ایم ایف پروگرام کے تحت اصلاحات کے ایجنڈے کے حصے کے طور پر پانچ بڑے اقدامات کی منظوری طلب کی ہے۔

آزاد کنسلٹنٹ کے پی ایم جی، ایک مالی استحکام گروپ اور آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) صوبوں کے ساتھ ساتھ مالی اور تکنیکی وابستگی کے پیرامیٹرز یا وسیع تر مشاورت کے مجوزہ اقدام کے خلاف

سب سے پہلے پیٹرولیم ڈویژن سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ (ایس این جی پی ایل) اور سوئی سدرن گیس کمپنی لمیٹڈ (ایس ایس جی سی ایل) کو 5 کمپنیوں میں تقسیم کرنے کے لیے مسابقتی عمل کے ذریعے لین دین کے مشیر کی فوری تقرری چاہتا ہے۔

دوسرا، پیٹرولیم ڈویژن چاہتا ہے کہ دونوں گیس یوٹیلیٹیز لین دین کے مشیر اور ریگولیٹر کی لاگت کو مل کر اٹھائیں تاکہ گیس یوٹیلیٹیز کے ریونیو کی ضرورت کے حصے کے طور پر صارفین سے اس لاگت کی وصولی کی اجازت دی جاسکے ورنہ حکومت کو قرض دینے والی ایجنسیز سے مالی اعانت تلاش کرنا چاہیے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ دونوں کمپنیاں اور ان کے حصص یافتگان نہ صرف اس کی تقسیم کی مخالف کی ہے بلکہ یہ واضح وجوہات پر اس کی منتقلی کی خود مالی اعانت کرنے کے حق میں نہیں ہیں۔

تیسرا، پیٹرولیم ڈویژن نے نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈیسپٹچ کمپنی (این ٹی ڈی سی) کی طرح قومی گیس ٹرانسمیشن کمپنی (این جی ٹی سی) بنانے کی اجازت طلب کی ہے تاکہ موجودہ اور نو تشکیل شدہ گیس کی تقسیم کار کمپنیوں کے لیے مشترکہ کیریئر کے طور پر کام کرسکیں۔

چوتھا، اس کے بعد دونوں کے ڈسٹری بیوشن نیٹ ورک کو ایس این جی پی ایل اور ایس ایس جی سی ایل کے ذریعہ چھوٹے کاروباری یونٹز یا ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کو چلانے کے لیے اپنے دائرہ اختیار میں یکساں اصولوں پر متعدد گیس کی تقسیم کار کمپنیوں میں تقسیم کیا جائے گا۔

پاور ڈویژن نے سفارش کی کہ ’کمپنیاں تکنیکی اور معاشی بنیادوں پر قائم کی جائیں گی جن میں آبادی، نیٹ ورک کی کثافت، گیس کی طلب، کام کا لوڈ وغیرہ شامل ہیں‘۔

پانچواں، پاور ڈویژن نے ’گیس کی فروخت کی قیمتوں کے لحاظ سے اوسط قیمت کا طریقہ کار یا کوئی دوسرا مناسب میکانزم (جو) تیار کرنے کے ساتھ ساتھ بیک وقت عمل میں لایا جائے گ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں