147

کیپٹن (ر) صفدر کی گرفتاری، تحقیقاتی کمیٹی کو آئی جی سندھ کے اغوا کے شواہد مل گئے

کیپٹن (ر) صفدر کی گرفتاری، تحقیقاتی کمیٹی کو آئی جی سندھ کے اغوا کے شواہد ..

کراچی (اُالشامی نیوز) کیپٹن (ر) صفدر کی گرفتاری سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔تحقیقاتی کمیٹی کو آئی جی کے اغوا کے شواہد مل گئے۔شواہد میں آئی جی مشتاق مہر کے گھر سمیت گزرگاہوں کی سی سی ٹی وی شامل ہیں جن کا باریک بینی نے جائزہ لیا جا رہا ہے

تفصیلات کے مطابق پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز کے شوہر کیپٹن (ر) صفدر کی متنازع گرفتاری کی تحقیقات کے لیے قائم سندھ حکومت کی وزارتی کمیٹی نے انکوائری شروع کر دی ہے۔کمیٹی نے ہوٹل سے لے کر تھانے تک کی سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کر لی۔سندھ حکومت نے واقعہ کی تحقیقات کے لیے وزراء پر مبنی ٹیم تشکیل دی ہے جس کی سربراہی سعید غنی کر رہے ہیں کہ جب کہ مرتضی وہاب اور ناصر حسین شاہ کمیٹی میں شامل ہیں۔کمیٹی ایک ماہ کے اندر تحقیقات مکمل کر کے رپورٹ سندھ اسمبلی میں پیش کرے گی۔وزراء کی کمیٹی منگل سے تحقیقات کا آغاز کرتے ہوئے ہوٹل سے لے کر تھانے تک جس روٹ سے کیپٹن (ر) صفدر کو لے جایا گیا اس راستے پر لگے تمام کیمروں کی پل پل کی فوٹیجز حاصل کر لی

مزید بتایا گیا ہے کہ کمیٹی کو آئی جی سندھ مشتاق مہر کے مبینہ اغوا کے شواہد بھی مل گئے۔جس میں آئی جی کے گھر سمیت گزرگاہوں کی سی سی ٹی وی شامل ہے۔ان فوٹیجز کا باریک بینی نے جائزہ لیا جا رہا ہے۔اگلے مرحلے میں کمیٹی نجی ہوٹل کے کمرے کا دورہ کرے گی،آئی جی سمیت آیڈیشنل آئی جی کو ایک دو روز میں طلب کیا جائے گا۔ سندھ حکومت کی تحقیقاتی کمیٹی نے کیپٹن(ر)صفدرکی گرفتاری کے واقعے کی تحقیقات کیلئے روزانہ کی بنیاد پر اجلاس کا فیصلہ کیا تھا۔کیپٹن(ر)صفدرکی گرفتاری کے واقعے پر تحقیقاتی کمیٹی کا اہم اجلاس وزیراعلیٰ ہاؤس میں ہوا تھا۔جس میں تحقیقاتی کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ وزرا کمیٹی روزانہ کی بنیاد پر بیٹھک کرے گی۔ کمیٹی رپورٹ مرتب کرکے وزیراعلیٰ سندھ کوپیش کرے گی اور ضرورت پڑنے پرمریم نوازسے بھی رابطہ کیا جائے گا جبکہ کمیٹی متاثرہ ہوٹل کے کمرے،آئی جی کی رہائشگاہ کامعائنہ بھی کریگی۔ یاد رہے کراچی میں کیپٹن صفدرکی گرفتاری اورافسران کی چھٹیوں کی درخواست پر تحقیقات کیلئے حکومت سندھ نے پانچ رکنی کمیٹی تشکیل دی تھی، کمیٹی میں ناصرحسین شاہ ، سعیدغنی،مرتضیٰ وہاب اوردوصوبائی وزراشامل ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں