105

کیا نواز شریف کی میڈیکل رپورٹس اصلی تھیں یا جعلی؟

اسلام آباد::(الشامی نیوز /آن لائن نیوز )پاکستان کی سب سے بڑی اپوزیشن جماعت مسلم لیگ ن کے قائد محمد نواز شریف سے متعلق خبریں ایک بار پھر گرم ہیں۔ اور اب کی بار یہ گرما گرمی کہیں اور سے نہیں حکم راں جماعت تحریک انصاف کی اپنی صفوں سے شروع ہوئی ہے۔
وفاقی حکومت کے وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے ایک مقامی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے سابق وزیر اعظم نواز شریف کی بلڈ ٹیسٹ رپورٹس پر سوالات اٹھا دیے اور اسی حوالے سے انہوں نے پنجاب کی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔
’ڈاکٹر یاسمین راشد گائنی کی ڈاکٹر ہیں جبکہ نواز شریف کی بیماری گائنی سے متعلق نہیں تھی۔ ڈاکٹر صاحبہ کو بھی تحقیقات میں شامل کیا جانا چاہیئے‘ یہ تھے وہ الفاظ جن کے بعد اس موضوع پر کھل کے بات ہونا شروع ہوئی۔
ڈاکٹر یاسمین راشد نے بھی ایک ٹی وی سکرین کا سہارا لیتے ہوئے فواد چوہدری کو جواب دیا کہ ’فواد چوہدری ڈاکٹر نہیں ہیں وہ رپورٹس کو نہیں سمجھ سکیں گے کیونکہ یہ ایک پیشہ ور ڈاکٹر ہی کر سکتا ہے۔ میں نے صوبائی وزیر صحت ہونے کے حوالے سے ان رپورٹس کا جائزہ لیا جو میرے سامنے پیش ہوئیں۔ اور انہی رپورٹس پر تمام ڈاکٹروں نے اپنی آرا دیں۔‘
انہوں نے یہ بھی کہا کہ سو دفعہ ان رپورٹس کی چھان بین کروائی جائے وہ اپنے موقف پر قائم ہیں اور تمام ریکارڈ بھی محفوظ ہے۔
دیکھا جائے تو اس وقت یہ معاملہ دو سمتوں میں زیر بحث ہے۔ ایک نواز شریف کو واپس لانا اور دوسرا کسی طریقے سے یہ ثابت کرنا کہ سابق وزیر اعظم کی طبی رپورٹس میں کسی قسم کا ردوبدل کیا گیا جس سے ان کی صحت انتہائی خطرناک حد تک گرتی ہوئی دکھائی دی جس کی بنا پر انہیں باہر جانے کی اجازت ملی۔

رپورٹس اصلی تھیں یا جعلی؟

اردو نیوز نے اس بات کی کھوج لگانے کی کوشش کی ہے کہ ان باتوں میں کس حد تک صداقت ہو سکتی ہے کہ طبی رپورٹس کو بدلا گیا۔
اس حوالے سے خون کے امراض کے ماہر ڈاکٹر طاہر شمسی جن کو خصوصی طور پر کراچی سے لاہور لایا گیا تھا اور انہوں نے میڈیکل بورڈ سے مل کر سابق وزیر اعظم کی نگہداشت کی تھی نے اردو نیوز کو بتایا ’ایک بات تو آپ کلئیر رکھیں کہ میں نواز شریف کا معالج نہیں تھا بلکہ مجھے ایک مہمان کے طور پر مدعو کیا گیا تھا۔ میں اس موضوع پر بات کرنے سے بھی قاصر ہوں کہ اس وقت جو سیاسی معاملات چل رہے ہیں اس کا بیک گراونڈ کیا ہے۔ میں نے اپنی دیانت داری سے وہ کام کیا جو مجھے سونپا گیا تھا اس سے زیادہ میں اس پر بات نہیں کروں گا۔‘
ڈاکٹر طاہر شمسی پاکستان کے ان چند معالجین میں سے ایک ہیں جو پیتھالوجی کے شعبے میں بات کرنے میں سند کا درجہ رکھتے ہیں۔
تاہم انہوں نے سابق وزیر اعظم کی طبی رپورٹس کے بارے میں اب بات کرنے میں معذوری ظاہر کی ہے۔ اس سوال کے کھوج کے لئے پیتھالوجی کے ہی شعبہ کے ایک اور ماہر ڈاکٹر خالد رسول سے جب یہ سوال کیا گیا کہ پاکستان کے موجود طبی نظام میں میڈیکل رپورٹس میں ردوبدل کتنا آسان کام ہے؟ تو ان کا جواب تھا کہ اس کا تعین کرنا بہت مشکل ہے۔
’البتہ معیاری لیب میں کسی بھی طرح سے سیمپلز میں ہیرا پھیری کرنا یا رپورٹس کو نیچے اوپر کرنا تقریبا ناممکن ہے۔ اس کی بڑی وجہ کمپیوٹرائزڈ نظام ہے جہاں ہر چیز کا آڈٹ کیا جا سکتا ہے۔ اس بات کو بھی چھوڑ دیں اگر آپ کو کسی لیب کے ٹیسٹ پر یقین نہیں تو اسی وقت لیبارٹری تبدیل کر کے کسی دوسری لیبارٹری سے آپ ٹیسٹ کروا لیتے ہیں اور اسی وقت پتا چل جائے گا کہ گڑ بڑ ہوئی یا نہیں۔‘
ڈاکٹر خالد رسول نے البتہ یہ بھی بتایا کہ سفید خلیوں کے ٹیسٹس میں بہر حال سیمپل لینے کی ٹیوب میں محلول کی کمی بیشی یا سیمپل دو ملی لیٹر سے زیادہ لینے کے باعث ان کی تعداد میں فرق آ سکتا ہے۔ ’لیکن ایسا صرف ایک بار ہوسکتا ہے اگر مریض کے ٹیسٹ ہر دوسرے روز لئے جا رہے ہوں تو غلطی رفع جاتی ہے۔‘
پنجاب کے محکمہ صحت کے ایک اعلی افسر نے اردو نیوز کو نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’سابق وزیر اعظم نواز شریف کی لیبارٹری رپورٹس پر تحقیقات شروع کی جا چکی ہیں۔ تاہم ان تحقیقات کا باقاعدہ اعلان نہیں کیا گیا۔ سروسز ہسپتال کی لیبارٹری کے علاوہ ایک نجی لیبارٹری کے ریکارڈ کی بھی جانچ کی جا رہی ہے۔‘
وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’جب میڈیکل رپورٹس پر سنجیدہ سوالات اٹھ چکے ہیں تو ظاہر ہے تحقیقات بھی ہوں گی۔ ویسے وفاقی حکومت تو پہلے ہی متحرک ہو چکی ہے، اس سلسلے میں برطانیہ سے بھی خط و کتابت ہوئی ہے۔ اور اب یہ معاملہ رکنے والا نہیں حقائق منظر عام پر ضرور آئیں گے۔‘
فواد چوہدری سمجھتے ہیں کہ میڈیکل رپورٹس میں ردوبدل کا قوی امکان موجود ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں