20

کام کے طویل اوقات کارکنوں کی موت کا سبب بن رہے ہیں، ڈبلیو ایچ او

نیویارک: عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے کہا ہے کہ کام کے طویل اوقات دنیا بھر میں کارکنوں کی اموات میں اضافے کا سبب بن رہے ہیں۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق اقوام متحدہ کے ایک تازہ ترین مطالعے کے مطابق دنیا بھر میں ہر سال لاکھوں افراد کی اموات کا سبب کام کے طویل اوقات کار بنتے ہیں۔

ڈبلیو ایچ او اور بین الاقوامی لیبر آرگنائزیشن کے اندازوں کے مطابق 2016 میں دنیا بھر میں 3 لاکھ 98 ہزار انسان اسٹروک یا اچانک دماغ کی رگ پھٹ جانے کا شکار ہوئے اور 3 لاکھ 47 ہزار دل کے عارضے میں مبتلا ہوئے۔

کارکنوں کی موت کی وجہ ان کا ہفتہ وار 55 گھنٹوں سے زیادہ کام کرنا بنی۔

ڈبلیو ایچ او اور بین الاقوامی لیبر آرگنائزیشن کی طرف سے پہلی بار کارکنوں کے کام کے اوقات کے بارے میں لگایا گیا تخمینہ پیش کیا گیا ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے سربراہ نے متنبہ کیا ہے کہ کورونا بحران اس صورتحال میں مزید خرابی کا سبب بن سکتا ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں