85

کابینہ نے بجلی کے نرخوں میں 14 ارب روپے کا اضافی سر چارج لگانے کی منظوری دے دی

اسلام آباد: (الشامی نیوز)حکومت نے ریونیو میں اضافے کے لیے صرف مالی سال کی پہلی سہ ماہی کے لیے اضافی ٹیرف کو 30 نومبر کو ختم کرنے کے بجائے اس میں توسیع کردی۔

تفصیلات کے مطانق وزارت توانائی کے پاور ڈویژن نے وفاقی کابینہ کو تجویز پیش کی تھی کہ 29 نومبر 2019 کو ایس آر او کے ذریعہ پہلے سے قابل اطلاق اضافی چارج سمیت ایک اضافی چارج لگایا جائے۔

وفاقی کابینہ نے 2019-20 کی دوسری اور تیسری سہ ماہی کے لیے بجلی کے نرخوں میں بقیہ ایڈجسٹمنٹ کی منظوری دے دی۔

سرکاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اس منظوری سے صارفین پر کوئی اضافی بوجھ نہیں بڑھے گا۔

ایک عہدیدار نے بتایا کہ 2019۔20 کی پہلی سہ ماہی میں گزشتہ سہ ماہی کی ایڈجسٹمنٹ 30 نومبر کو ختم ہوچکی تھی اور اب صارفین کو پہلے فراہم کی جانے والی رعایت پر اگلے 10 مہینوں کے لیے اس کے بدلے میں اس کے متبادل اضافہ کردیا گیا۔

کابینہ کو جمع کرائی گئی ایک سمری میں کہا گیا کہ ‘2019-20 کی پہلی سہ ماہی کے لیے 0.1456/ کلو واٹ (قومی اوسط) کی سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کی میعاد ختم ہوگئی۔

کابینہ کو بتایا گیا کہ ریگولیشن آف جنریشن، ٹرانسمیشن اینڈ ڈسٹری بیوشن آف الیکٹرک پاور ایکٹ 1997 اور سہ ماہی ٹیرف ایڈجسٹمنٹ میکانزم کے سیکشن 31 (7) کے تحت نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے دوسری اور تیسری سہ ماہی کے لیے متواتر سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کا تعین کیا ہے اور تمام صارفین کے لئے 1.627 روپے فی یونٹ کی مجموعی اوسط اضافہ شامل ہے۔تحریر جاری ہے‎

کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے 30 ستمبر 2020 کو لائف لائن صارفین کو چھوڑ کر صارفین کے تمام کیٹییگریز کے لیے 1.627 روپے فی کلو واٹ کے ٹیرف اضافے کو نوٹیفائی کرنے کی تجویز کو منظوری دی تھی۔

وفاقی کابینہ نے 6 اکتوبر 2020 کو ای سی سی کے فیصلے کی اس ہدایت کے ساتھ توثیق کی تھی کہ تمام صارفین کے لیے بجلی کی قیمت میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی۔

کابینہ نے مزید ہدایت کی کہ رواں مالی سال کے دوران بجلی کے شعبے کو اضافی سبسڈی کے طور پر 14 ارب 38 کروڑ روپے کا فرق ایڈجسٹ کیا جائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں