88

پی آئی اے کے مرکزی دفاتر آئندہ ماہ اسلام آباد منتقل کردیے جائیں گے

راولپنڈی: پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز(پی آئی اے) کے مرکزی دفاتر بشمول فلائٹ سروس ڈویژن، کمرشل ڈپارٹمنٹ اور ہیومن ریسورس ڈپارٹمنٹ قومی ایئرلائن کی تنظیم نو کے منصوبے کے طور پر جنوری کے آخر تک کراچی سے اسلام آباد منتقل کردیے جائیں گے۔

ایئر لائن کے دیگر افعال جس میں فلائٹ شیڈولنگ اور میڈیکل ڈویژن، کارپوریٹ ڈیولپمنٹ ڈپارٹمنٹ، ورکس ڈویژن اور سپلائی چین منیجمنٹ فروری کے آخر تک وفاقی دارالحکومت منتقل کیے جائیں گے۔

اسی طرح کارپوریٹ سیکریٹریٹ اور فنانس ڈپارٹمنٹ مارچ کے آخر جبکہ انجینئرنگ ڈپارٹمنٹ جون 2021 کے آخر تک اسلام آباد منتقل کردیا جائے گا۔

پی آئی اے انتظامیہ موجودہ طبی سہولت کو ختم کر کے ملازمین کے لیے ‘صحت کارڈ’ متعارف کروانے پر غور کررہی ہے کیوں کہ اس کے مطابق میڈیکل کی موجودہ سہولت ایئرلائن پر بہت بڑا مالی بوجھ ہے۔

لہٰذا کہا گیا کہ اگر ‘صحت کارڈ’ کا آپشن عملی جامہ نہ پا سکا تو یا تو مہنگے نجی ہسپتالوں کے بجائے سرکاری ہسپتالوں کو پینل پر لیا جائے گا یا میڈیکل کے نام پر معمولی رقم کو تنخواہوں کا حصہ بنادیا جائے گا۔

اس کے علاوہ ایئر ٹکٹ اسکیم (پیسیج فیسِلیٹی) کو معقول بنا کر اس ہی سہولت کی تمام درجوں کے ملازمین تک توسیع کردی جائے گی، ملازمین کو ملنے والے ٹکٹس کی تعداد بھی کم کی جارہی ہے کیوں کہ اس سے ایندھن کی لاگت کی صورت میں بلواسطہ اخراجات بڑھتے ہیں۔

رواں ماہ 7 تاریخ کو پی آئی اے نے 3 ہزار 500 ملازمین سے چھٹکارا پانے اور 1:250 کا تناسب یعنی ایک طیارے کے لیے 250 ملازمین کا ہدف پانے کے لیے ایک رضاکارانہ علیحدگی اسکیم متعارف کروائی تھی جس کی حتمی تاریخ 22 دسمبر ہے۔

اسی طرح لازمی علیحدگی اسکیم جو کارکردگی اور نظم و ضبط کی بنیاد پر ہے اس کی حتمی تاریخ جنوری 2021 ہے۔

ایئرلائن سے غیر بنیادی افعال کی علیحدگی اور تیز ترین بھرپور احتساب کی حتمی تاریخ مارچ 2021 مقرر کی گئی ہے، تیز ترین احتساب میں محکمہ جاتی تفتیش اور انکوائری کا آغاز یا تکمیل، عدالتوں میں قانونی مقدمات کی جارحانہ انداز میں پیروی اور قومی احتساب بیورو اور وفاقی تحقیقاتی ادارے کی تفتیش کو تیز کرنا شامل ہے۔

ملازمین کو باعزت طریقے سے اچھے مالی پیکج کے ساتھ الگ کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔تحریر جاری ہے‎

تشکیل نو کے منصوبے کے مطابق اگر رضاکارانہ علیحدگی اسکیم کے تحت ساڑھے 3 ہزار ملازمین کا ہدف مکمل نہ ہوا تو اس کے فوراً بعد لازمی علیحدگی اسکیم متعارف کردی جائے گی۔

یوں ساڑھے 3 ہزار ملازمین کا درکار ہدف پانے کے لیے پی آئی اے کے تمام محکموں اور کیٹیگریز کے ملازمین کو معقول بنایا جائے گا۔

منصوبے کے تحت اضافی ملازمین کو کارکردگی، نظم و ضبط اور ویلیو ایڈیشن کی بنیاد پر لازمی طور پر ریٹائر کردیا جائے گا، اور ان ملازمین کو نہ تو مالیاتی پیکج ملےگا نہ ہی ریٹائرمنٹ کے بعد میڈیل اور پیسج کی سہولت میسر آئےگی۔

پی آئی اے آفیسرز ایسو سی ایشن کے جنرل سیکریٹری صفدر انجم نے الزام عائد کیا کہ انتظامیہ نے تنظیم نو کا منصوبہ اس لیے لیک کیا تا کہ ملازمین میں خوف و ہراس پیدا ہو اور وہ رضاکارانہ علیحدگی اسکیم حاصل کرلیں۔

انہوں نے کہا کہ ‘جب سے رضاکارانہ علیحدگی اسکیم متعارف کروائی گئی ہے اب تک صرف 650 ملازمین نے اس میں اپلائی کیا ہے’۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ وہ تمام ملازمین جنہیں کراچی سے اسلام آباد منتقل کیا جائے گا انہیں رہائش اور دیگر سہولیات کے حصول میں مشکلات کا سامنا ہوگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں