41

پیٹرول بحران کی رپورٹ پر وفاقی وزراء میں شدید بحث ومباحثہ

وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں وفاقی کابینہ نے14نکاتی ایجنڈے پر غور کیا۔کابینہ اجلاس میں پٹرولیم بحران سے متعلق تحقیقاتی رپورٹ وفاقی کابینہ میں پیش کی گئی اوروفاقی کابینہ میں انکوائری کمیٹی کی سفارشات پربحث بھی کی گئی۔وزیراعظم نے انکوائری رپورٹ کی سفارشات کا جائزہ لینے کیلئے 3 رکنی کمیٹی قائم کر دی جس میں وفاقی وزیرشفقت محمود،شیریں مزاری اور اسد عمر شامل ہیں۔وزیراعظم عمران خان نے پٹرول بحران میں ملوث کمپنیوں کے خلاف کارروائی کا عندیہ دیتے ہوئے کہا کہ پٹرول بحران میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی ہوگی اور حتمی سفارشات آنے کے بعد کارروائی ہو گی۔کابینہ میں بعض وفاقی وزراء نے انکوائری رپورٹ پر شدید رد عمل دیا جبکہ معاون خصوصی ندیم بابر کابینہ اجلاس کے دوران وضاحت پیش کرتے رہے،وزراء نے تحقیقاتی رپورٹ میں ذمہ داران ثابت ہونے والوں کے خلاف سخت ایکشن کا مطالبہ کردیا ،بحران آیا تو متعلقہ وزارتیں کہاں تھیں؟ان کی کیا ذمہ داری تھی؟ کابینہ میں ارکان نے سوال اٹھادیا۔اجلاس میں وفاقی وزیر فیصل واوڈا اور علی زیدی سمیت متعدد وزراء نے سخت سوالات کیے۔فیصل واوڈا نے سوال کیا کہ تیل سستا ہوا تو ایکسپورٹ پر رکا کیوں رہا؟جو کمپنیاں ملوث تھیں ان کے لائیسنس منسوخ کیوں نہیں کئے گئے؟جبکہ علی زیدی نے بھی سخت سوالات کرتے ہوئے ذمہ داران کے خلاف کاروائی کا مطالبہ کر دیا۔وفاقی کابینہ کے اجلاس میں اٹارنی جنرل نے قانونی معاملات پر کابینہ کوبریفنگ دی جبکہ وزارت خزانہ کی جانب سے صوبوں کو رقوم کی فراہمی اور وسائل پر بریفنگ دی گئی،احساس کفالت پر سروے اور کورونا ریلیف فنڈ پر بھی  کابینہ کو بریفنگ دی گئی۔کابینہ ایف نائن پارک میں موجود میٹرو پولیٹن کلب کی عمارت کے استعمال پر قائم کمیٹی رپورٹ موخر کردی جبکہ وزارت آئی ٹی کے ذیلی ادارےآئیگنائیٹ کے سی ای او کی تعیناتی کی منظوری دےدی۔کابینہ کی جانب سے سوئی ناردرن اور سدرن گیس کمپنیوں کے مستقل ایم ڈیز کی تعیناتی کردی گئی جبکہ بجلی تقسیم کار کمپنیوں کے سی ای اوز کی تعیناتی بھی کردی گئی،اس کے ساتھ ساتھ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اتھارٹی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے ممبران کی تقرری کردی گئی، جبکہ بیرون ملک پاکستان مشنز میں کمیونٹی ویلفئیر اتاشیوں کی تقرری کی منظوری دیدی گئی اور ایمپلائز اولڈ ایج بینفٹس انسٹی ٹیوشن کے بورڈ آف ٹرسٹیز کی تشکیل نو منظور کر لی گئی۔وفاقی کابینہ کے اجلاس میں کابینہ نے عامر طفیل کو سوئی ناردرن کاایم ڈی تعینات کرنے کی منظوری دے دی جبکہ کابینہ نےلیفٹیننٹ جنرل اختر نوازکو چیئرمین این ڈی ایم اے لگانےکی منظوری دی،کابینہ ڈویژن نے چیئرمین این ڈی ایم اے کی تعیناتی کے لیے تین نام بھیجے تھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں