64

وزیر اعظم کے بیان کے بعد مظاہروں میں شدت، لاہور جام ہو گیا

لاہور : سانحہ مچھ کے متاثرین کے ساتھ اظہار یکجہتی اور وزیر اعظم کے بیان کے خلاف مظاہرین نے لاہور میں احتجاج کا دائرہ کار بڑھا دیا۔ شہر کی اہم شاہراہوں پر احتجاج کے باعث ٹریفک کا نظام متاثر ہو گیا ۔
تفصیلات کے مطابق سانحہ مچھ کے متاثرین کے ساتھ اظہار یکجہتی کیلئے لاہور میں دھرنا تیسرے روز بھی جاری ہے ، مظاہرین نے ملتان روڈ اور ٹھوکر نیاز بیگ پر بھی دھرنا دے دیا۔گورنر ہاؤس کے سامنے دھرنے سے شروع ہونے والے احتجاج کا دائرہ کار شہر کے دوسرے حصوں تک بھی بڑھا دیا گیا۔ ملتان روڈ، ٹھوکر نیاز بیگ، امامیہ کالونی اور فیروز پور روڈ سمیت متعدد جگہوں پر احتجاجی مظاہرین نے سڑکیں بلاک کردیں۔احتجاجی مظاہرین کا کہنا ہے کہ وہ وزیراعظم کی انا کیخلاف سراپا احتجاج ہیں۔وزیراعظم کوئٹہ جانے کی بجائے شہداء کے خاندانوں کی تضحیک کر رہے ہیں،جب تک مطالبات تسلیم نہیں کئے جاتے احتجاج جاری رہے گا۔اگر وزیراعظم کوئٹہ نہیں جاتے تو احتجاج کا دائرہ کار مزید بڑھ سکتا ہے۔ تاہم اہم شاہراہوں کی بندش سے شہریوں کو بھی مشکلات کا سامنا ہے۔ لاہور سے ملتان، اور گجرانوالہ جانے اور آنے والے مسافر پھنس کر رہ گئے۔واضح رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے شرط رکھ دی کہ سانحہ مچھ کے لواحقین پہلے شہدا کی تدفین کریں میں آج ہی کوئٹہ آ جاؤں گا،دنیا کے کسی وزیراعظم کو ایسے بلیک میل نہیں کیا جا سکتا۔انہوں نے کہا کہ سارے مطالبات مان لیے تو دفنانے پر شرط کیوں،کل تک ہم ہزارہ برادری کی ڈیمانڈ مان چکے ہیں،تدفین کو وزیراعظم کی آمد سے مشروط کرنا بلیک میلنگ کے مترادف ہے۔

عمران خان نے کہا کہ اگر آپ دفنا دیں گےتومیں آج کوئٹہ پہنچوں گا، لواحقین کو یقین دلاتے ہیں کہ انہیں تنہا نہیں چھوڑیں گے، دنیا کے کسی وزیراعظم کو ایسے بلیک میل نہیں کیا جا سکتا،ڈھائی سال سے ڈاکوؤں کا ٹولہ حکومت کو بلیک میل کر رہا ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں