46

واپڈا دیامر بھاشا، مہمند ڈیمز کی تعمیری لاگت کے لئے سرگرم 2 ارب ڈالرز قرض لینے کا فیصلہ

اسلام آباد: واٹر اینڈ پاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (واپڈا) دیامر بھاشا اور مہمند ڈیمز کی غیر ملکی مالی اعانت کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے یوروبونڈز کے ذریعے 50 کروڑ ڈالر کے بین الاقوامی تجارتی قرضے حاصل کرے گا۔

کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) جس کا اجلاس رواں ہفتے کے آخر میں متوقع ہے، میں امید کی جارہی ہے کہ وہ واپڈا کے بیرون ملک بانڈز کے اجرا کو باضابطہ طور پر منظور کرے گی۔

اس کے علاوہ ای سی سی مائع پٹرولیم گیس (ایل پی جی) ایئر مکس پلانٹس کی قسمت کے بارے میں بھی فیصلہ کرے گی۔

یہ پہلا موقع ہے جب معروف بین الاقوامی کریڈٹ ایجنسیوں کے ذریعہ کارپوریٹ فیملی ریٹنگ (موڈیز کی جانب سے بی 3 مستحکم) کی وجہ سے واپڈا حکومت کی ضمانت کے بغیر یورو بونڈز جاری کر رہا ہے۔

دونوں میگا پراجیکٹس کے لیے واپڈا کو غیرملکی فنڈز میں 2 ارب ڈالر سے زیادہ کی ضرورت ہے تاہم غیر ضروری مالی اخراجات سے بچنے کے لیے تعمیراتی ضروریات کے مطابق واپڈا کا اس طرح کے فنڈز کو اکٹھا کرنے کا منصوبہ ہے۔

واپڈا نے پہلے ہی چینی اور پاکستان کی کمپنیوں کے گروپس کو مہمند ڈیم 310 ارب روپے کی لاگت سے اور دیامر بھاشا ڈیم 442 ارب روپے کی لاگت سے معاہدے کر چکی ہے۔

پہلے مرحلے میں واپڈا نے وزارت آبی وسائل کو ایک سمری ارسال کی تھی تاکہ وہ 50 کروڑ ڈالر کے یورو بانڈز متعارف کرائے۔ عہدیداروں نے بتایا کہ واپڈا کو توقع ہے کہ وہ اس بانڈ کو مساوی کریڈٹ ریٹنگ کے پیش نظر پاکستان سوورین پیپرز کے قریب قریب نرخوں پر حاصل کرے گا۔تحریر جاری ہے‎

ان کا کہنا تھا کہ واپڈا دونوں منصوبوں کے لیے فنڈز کو ضرورت کی بنیاد پر استعمال کرے گا اور جب مزید فنڈز کی ضرورت ہوگی تو وہ دوبارہ بین الاقوامی سرمائے کی منڈی کا رخ کرے گا۔

حکومت نے جون 2019 میں مہمند ڈیم اور دیامر بھاشا ڈیم کی تعمیر رواں سال مئی میں شروع کی تھی۔

مہمند ڈیم میں 1.9 ملین ایکڑ فٹ (ایم اے ایف) پانی کی مجموعی گنجائش اور 0.67 ایم اے ایف کی براہ راست گنجائش ہوگی جبکہ 800 میگا واٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت اور 2 ہزار 862 گیگا واٹ بجلی کی سالانہ پیداوار کی صلاحیت ہوگی۔تحریر جاری ہے‎

دیامر بھاشا ڈیم سے تربیلا ڈیم کی زندگی میں بھی تقریبا 35 سال تک کا اضافہ ہوگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں