80

نون لیگ کے من پسند 9 پولیس افسران کی خدمات اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے حوالے

لاہور:( الشامی نیوز) پنجاب حکومت نے پولیس کے 7 ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) اور دو سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس ایس پی) کی خدمات اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے حوالے کردیں۔

تفصیلات کے مطابق رات گئے ہونے والی پیش رفت میں افسران کو مسلم لیگ (ن) کے دور حکومت میں صوبے میں زیادہ تر وقت خدمات انجام دینے پر پنجاب سے باہر بھیجا گیا۔

اس سے قبل پنجاب پولیس کے انسپکٹر جنرل انعام غنی نے 18 گریڈ اور 19 گریڈ کے 24 پولیس افسران کا تبادلہ کیا تھا جس میں لاہور کے ایس ایس پی انوسٹی گیشن اور قصور کے ضلعی پولیس آفیسر (ڈی پی او) شامل تھے۔

اطلاعات ہیں کہ کچھ عہدیداروں کے تبادلے والی پالیسی جبکہ دیگر کو ’مسلم لیگ (ن)‘ سے قریبی تعلقات رکھنے کی وجہ سے ان کی صوبے سے سروسز ختم کی گئی ہیں۔

ان میں سے تین وہ لوگ تھے جنہوں نے لاہور کیپٹل سٹی پولیس آفیسر عمر شیخ کے تقرر کے خلاف اور اس وقت کے انسپکٹر جنرل پولیس شعیب دستگیر سے اظہار یکجہتی کے لیے 50 پولیس افسران کے اجلاس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا تھا۔

نوٹیفکیشن کے مطابق اسپیشل پروٹیکشن یونٹ کے ڈی آئی جی بلال صدیق، گوجرانوالہ سٹی پولیس آفیسر رائے بابر سعید اور ایلیٹ پولیس پنجاب ڈی آئی جی اختر عباس بھی ان افسران میں شامل ہیں جن کی خدمات اسٹیبلشمنٹ ڈویژن، اسلام آباد کے حوالے کردی گئی ہیں۔

اسی طرح ڈی آئی جی پنجاب ویلفیئر شوکت عباس، پنجاب ہائی وے پیٹرولنگ ڈی آئی جی ہمایوں بشیر تارڑ اور ڈپٹی کمانڈنٹ پنجاب کانسٹیبلری انکسار خان افغان کو بھی پنجاب سے ’بے دخل‘ کردیا گیا ہے۔

19 گریڈ میں خدمات انجام دینے والے تین پولیس افسران جن کی خدمات وفاق کے حوالے کردی گئیں، ان میں ذیشان اصغر شامل بھی ہیں جن کا پیر کے روز ایس ایس پی انویسٹی گیشن لاہور کے عہدے سے تبادلہ کیا گیا تھا جبکہ اس کے علاوہ مرکزی پولیس آفس میں اسسٹنٹ انسپکٹر جنرل ڈسپلن کیپٹن (ریٹائرڈ) لیاقت علی ملک اور ڈی آئی جی ٹیلی کمیونکیشن اور ٹرانسپورٹ اکبر ناصر خان بھی شامل ہی

اس پیش رفت سے متعلق معلومات رکھنے والے سرکاری عہدیدار نے بتایا کہ 19 گریڈ کے 3 پولیس افسران میں سے اکبر ناصر کو جنوری 2019 میں ڈی آئی جی کی حیثیت سے تعینات کیا گیا تھا تاہم ان کا نام 19 گریڈ کے افسران کی فہرست میں یا تو غلطی سے یا جان بوجھ کر درج کیا گیا تھا کیوں کہ چند معاملات پر جب وہ پنجاب سیف سٹی اتھارٹی میں خدمات انجام دے رہے تھے تو بیوروکریسی ان سے ناراض تھی۔

انہوں نے کہا کہ بیوروکریسی نے اکبر ناصر کے ’منصوبے‘ کی سختی سے مخالفت کی تھی جب انہوں نے وزیر اعلی کو ’خفیہ طور پر‘ ایک سمری بھیج کر اختیارات کا کنٹرول سنبھالنے کی کوشش کی تھی۔

عہدیدار نے بتایا کہ جن افسران کی سروسز وفاقی حکومت کے حوالے کی گئی ہیں ان افسران کو ان کی ’صوبے سے باہر منتقلی‘ کی وجوہات کے بارے میں نہیں بتایا گیا کیوں کہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی جانب سے جاری متعلقہ نوٹیفکیشن اس سلسلے میں اس کا کوئی ذکر نہیں۔

واضح رہے کہ تقریباً دو ہفتے قبل ہی پنجاب حکومت نے دو سابق کیپیٹل سٹی پولیس افسران (سی سی پی او) ذوالفقار حمید اور بی اے ناصر کو اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے حوالے کردیا تھا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں