52

مہنگائی، گیس وبجلی بحران کی ذمے دار پی پی اور ن لیگ ہے، عمر ایوب

ا   

حیدرآباد: وفاقی وزیر توانائی عمر ایوب پریس کانفرنس کررہے ہیں

حیدرآباد( الشامی نیوز) وفاقی وزیر توانائی عمر ایوب خان نے کہا ہے کہ ملک میں موجودہ مہنگائی ‘ بجلی اور گیس کا بحران کا پیپلزپارٹی اور(ن) لیگ کی کرپشن کا نتیجہ ہے ہم نے جب حکومت سنبھالی تو مسلم لیگ (ن) نے خزانے میں صرف ہفتے کا زرمبادلہ کے ذخائر چھوڑے تھے ،، کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 20 ارب روپے تھا ، بجلی کے حوالے سے ان حکومتوں نے جو معاہدے کیے ان میں کرپشن کی گئی۔وہ سرکٹ ہائوس میں پریس کانفرنس کر رہے تھے، ان کے ساتھ سابق


وزیر اعلیٰ و جی ڈی اے کے رہنما غلام ارباب رحیم، ایم کیو ایم کے رکن قومی اسمبلی انجینئر صابر قائمخانی ، پی ٹی آئی رہنما حلیم عادل شیخ اور دونوں جماعتوں کے دیگر ارکان اسمبلی و عہدیدار بھی موجود تھے۔ انہوںنے کہاکہ مہنگائی ،بے روزگاری، بجلی اور گیس کا بحران مسلم لیگ ن اور پی پی کی کرپٹ حکومتوں کی لوٹ مار کا نتیجہ ہے جنہوں نے 30 ہزار ارب کے قرضے اورخالی خزانہ چھوڑا، بجلی کے نہایت مہنگے معاہدے کیے اورگیس کی نئی دریافت نہیں۔ جب عمران خان وزیر اعظم بنے تو ملک دیوالیہ ہونے کے قریب تھا ۔آج مسائل کا جائزہ لینے کے بعد حیسکو کی ٹیم چیمبرآف کامرس سمیت تاجروں کی تنظیموں سے کہا گیا ہے کہ وہ جلد سفارشات مرتب کر کے بھیجیں کہ کتنے گرڈ اسٹیشنز، فیڈڑز، ٹرانسفارمرزو دیگر چیزوں کی ضرورت ہے ،وزارت جلد ان کو منظور کرکے مسائل کو حل کرے گی۔علاوہ ازیںگو رنر سندھ عمران اسماعیل اور وفاقی وزیر توانائی عمر ایوب نے سرکٹ ہاؤس حیدرآباد میں ایوان صنعت و تجارت حیدرآبادکے ایک وفد کے ساتھ اجلاس منعقد کیا ۔ اجلاس میں وفد کے اراکین نے صنعتکاروں اور تاجروں کو درپیش مسائل سے گورنر سندھ کو آگاہ کیا ۔ گورنر سندھ نے اس موقع پر کہا کہ تاجر برادری ملک کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے اور انہیں درپیش مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کیے جائیںگے

گیس کی تلاش کے لیے 20 نئے بلاکس

عمر ایوب نے کہا کہ گیس کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل (سی سی آئی) میں اٹھایا گیا تھا جہاں حکومت سندھ نے دعوی کیا ہے کہ اس کے پاس کافی ذخائر ہیں ‘در حقیقت اس سال سندھ کے ذخائر میں خسارہ ہوگا’۔

انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی دونوں حکومتوں نے نئے بلاکس کی کھدائی نہیں کہ لیکن پی ٹی آئی کی حکومت نے 20 بلاکس کی نیلامی کردی ہے ‘اس کے اثرات پانچ سال کے بعد دیکھنے کو ملیں گے’۔تحریر جاری ہے‎

وفاقی وزیر نے کہا کہ گیس کی موجودہ قلت کو مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کے ذریعے قلیل المدتی بنیاد پر پورا کیا جاسکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کسی حد تک قلت کو دور کرنے کے لیے شمالی اور جنوبی پائپ لائنیں ڈال کر روسی حکومت کے اشتراک سے دو ایل این جی ٹرمینلز قائم کیے جائیں گے۔

وزیر توانائی کا کہنا تھا کہ ‘گیس کی قلت صرف نئے ذخائر کی دریافت کے ساتھ ہی ختم ہوگی’۔

انہوں نے کہا کہ گیس کی وزن کی اوسط قیمت کا تعین مقامی گیس اور ایل این جی کے لیے طے کرنا چاہیے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ‘اگر قیمت کا تعین کیا جائے تو ہم بحران کے مسئلے سے نکل جائیں گے، کوئی پوچھے کہ پی پی پی اور مسلم لیگ (ن) کی حکومتوں نے گیس کے نئے ذخائر دریافت کرنے کے لئے کیوں کام نہیں کیا’۔

عمر ایوب کا کہنا تھا کہ ‘ماضی کی حکومتیں پرانے ہی بلاکس میں کھدائی کرنے کا انتخاب کر رہی تھیں جو تکنیکی طور پر ممکن ٹھیک نہیں، سندھ کے ذخائر میں 7 فیصد کمی واقع ہوئی ہے’۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی غیر منظم گیس کی طلب 7.5 ارب مکعب فٹ ہے جبکہ پیداوار صرف 3.5 ارب مکعب فٹ ہے۔ انہوں نے کہا کہ 1.2 ارب مکعب فٹ ایل این جی سے پورا کیا جائے گا جبکہ باقی فرق سے گیس کا بحران پیدا ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ درآمدی گیس کے ذریعے پورا کیا جاسکتا ہے ‘نئے ذخائر کی دریافت میں پانچ سال لگیں گے، ہمیں توقع ہے کہ ہم اس کمی کو پورا کریں گے’۔

انہوں نے کہا کہ سی سی آئی میں گیس کی قلت پر تبادلہ خیال کیا گیا اور بتایا گیا کہ اس سال سندھ میں ذخائر کم ہونا شروع ہوجائیں گے جبکہ 4 اور 5 سالوں میں بلوچستان اور خیبر پختونخواہ کے ذخائر بھی کم ہونے لگیں گے۔ ‘

غلط سودے’

وزیر توانائی نے کہا کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی دونوں حکومتوں نے غلط معاہدوں پر دستخط کیے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ان حکومتوں نے شمسی، ہوا اور پانی سے بجلی پیدا کرنے کے بجائے درآمدی توانائی کو ترجیح دی تھی، تقریبا 70 فیصد توانائی درآمدی ایندھن کے ذریعہ پیدا کی جارہی ہے جس کی وجہ سے بجلی مہنگی ہے۔

انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف نے شمسی توانائی کے لیے 6.50 روپے اور 3.75 روپے فی یونٹ قیمت پر ایک معاہدے پر دستخط کیے ہیں جبکہ پی پی پی اور مسلم لیگ (ن) نے اسی طرح کے معاہدے پر بالترتیب 18 اور 24 روپے فی یونٹ پر دستخط کیے تھے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) عوامی جلسوں کا انعقاد کر سکتی ہے لیکن اتحاد کے قائدین کی تقاریر میں ‘غداری’ کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی، اس کے اتحادی اور عوام پی ڈی ایم کو جوابدہ رکھیں گے۔

انہوں نے الزام لگایا کہ ‘پی ڈی ایم وہاں اپنی چوری کو چھپانے، پاکستان کے مفاد کو نقصان پہنچانے اور اپنے مفادات کے لیے وہاں موجود ہے’۔

انہوں نے کہا کہ عوام کو تبدیلی کی ضرورت ہے اور اسی وجہ سے وہ تحریک انصاف کی حمایت کر رہے ہیں۔

‘حیدرآباد کے مسائل کی ذمہ دار پیپلز پارٹی ہے’

وفاقی وزیر نے کہا کہ حیدرآباد کو پیپلز پارٹی کے زیر اثر واٹر اینڈ سینی ٹیشن ایجنسی (واسا) کی نااہلی کی وجہ سے سیلاب کا سامنا کرنا پڑا۔

کراچی کے علاوہ سندھ کے دیگر علاقوں میں بھی افسوس ناک صورتحال دیکھی جارہی ہے یہ شہر اور علاقے 50 سال پہلے بہتر حالت میں تھے۔

عمر ایوب کا کہنا تھا کہ ہیسکو انتظامیہ مزید گرڈ اسٹیشنز، آزاد فیڈرز، نئے ٹرانسفارمرز اور چار ورکشاپس کی تنصیب کے لیے سفارشات پیش کرے گی جن کی مالی امداد وفاقی حکومت کرے گی تاکہ خطے میں بجلی کی فراہمی کو بہتر بنایا جاسکے۔

انہوں نے کہا کہ انہوں نے چند نادہندگان کی وجہ سے پورے علاقے کو سپلائی منقطع کرنے سے ہیسکو کو روک دیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پانی کی چوری کے خلاف کارروائی جاری رہے گی اور کاروباری برادری بھی اس سلسلے میں اپنا نقطہ نظر پیش کریں گے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں