64

موٹر وے زیادتی کیس کے مرکزی ملزم عابد ملہی نے دوران تفتیش کیا انکشافات کئے؟


لاہور ( الشامی نیوز) موٹر وے زیادتی کیس کے مرکزی ملزم عابد ملہی نے دوران تفتیش کئی تہلکہ خیز انکشافات کیے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق دوران تفتیش عابد ملہی نے سی آئی اے لاہور کو بتایا کہ وہ ایک ماہ پبلک ٹرانسپورٹ میں مختلف شہروں میں بھی پھرتا رہا۔ اس نے ماسک پہن رکھا تھا جس کی وجہ سے لوگ اسے پہچان نہ سکے اور وہ ماسک پہن کر مختلف علاقوں میں گھومتا رہا۔ ملزم کے مطابق واردات کے بعد میں ننکانہ اور پھر بہاولپور چلا گیا۔

ملزم نے انکشاف کیا کہ اسکے پاس پیسے ختم ہوگئے تھے، پیسے ختم ہونے پر بیوی سے رابطہ کیا تو پولیس نے اسے گرفتار کرلیا۔

عابد ملہی نے دوران تفتیش بتایا کہ 9 ستمبر کو ہم لوٹ مار کی وارداتوں کے لیے کورول گاؤں سے نکلے تھے۔میں، شفقت اور بالا مستری 9 ستمبر کو واردات کے ارادے سے کورول گاؤں سے نکلے، بالا مستری راستے سے واپس چلا گیا جبکہ میں اور شفقت کورول جنگل کی طرف چلے گئے جہاں ہم نے دو تین ٹریکٹر ٹرالی والوں کو لوٹا۔

اسکے بعد ہم موٹروے کے قریب پہنچے تو وہاں ایک گاڑی کے جلتے بجھتے انڈیکٹر کو دیکھا ، جسے دیکھ کر ہم موٹروے کے اوپر چلے گئے۔خاتون کے پاس پہنچ کراسے گاڑی سے باہر نکلنے کا کہا، خاتون نے باہر نکلنے سے انکار کیا تو ہم نے گاڑی کا شیشہ توڑا اور خاتون کو زبردستی باہر نکالا جس کے بعد ہم نے گھڑی، زیورات اور نقدی لوٹنے کے بعد اسے موٹروے سے نیچے جانے کوکہا۔

خاتون کے انکار پر ہم بچوں کو نیچے لے گئے۔ خاتون بچوں کو بچانے نیچے آئی تو اسے زیادتی کا نشانہ بنایا۔ کچھ دیر بعد جب ڈولفن اہلکار آئے تو انہوں نے ہوائی فائرنگ کی جس پر ہم فرار ہوگئے۔اسکے بعد میں ننکانہ صاحب اور شفقت دیپالپور چلا گیا۔

یاد رہے کہ تھانہ گجرپورہ کی حدود سیالکوٹ موٹروے بائی پاس پر خاتون سے زیادتی کا واقعہ گزشتہ ماہ ستمبر میں پیش آیا تھا۔ متاثرہ خاتون لاہور سے اپنے بچوں کے ہمراہ گاڑی پر گوجرانوالہ جا رہی تھی کہ پیٹرول ختم ہوگیاجس پر خاتون نے فون کرکے پولیس سے مدد طلب کی۔

کچھ دیر بعد ملزمان عابد ملہی اور شفقت وہاں پہنچے، گاڑی کے شیشے توڑ کر خاتون کو باہر نکالا اور گن پوائنٹ پر بچوں کے سامنے اسے زیادتی کا نشانہ بنا کر فرار ہو گئے تھے۔

پنجاب پولیس نے عابد کو موسٹ وانٹڈ ملزم قرار دیتے ہوئے اس کی گرفتاری پر 25 لاکھ روپے انعام مقرر کر رکھا تھا جب کہ پنجاب بھر میں مختلف سیکیورٹی اداروں کی متعدد ٹیموں اور اہل کاروں کو ملزم کی گرفتاری کا ٹاسک دیا ہوا 

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں