43

مولانا عادل خان کے قتل کی تحقیقات کیلئے آئی جی سندھ مشتاق مہر نے 4 رکنی ٹیم تشکیل دے دی

کراچی (الشامی نیوز) انسپکٹر جنرل (آئی جی) سندھ پولیس مشتاق مہر نے جامعہ فاروقیہ کے مہتم ڈاکٹر مولانا عادل خان کے قتل کی تحقیقات کے لیے اعلیٰ سطح کی 4 رکنی ٹیم تشکیل دے دی۔

آئی جی سندھ کے دفتر سے جاری حکم نامے کے مطابق تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ ایڈیشنل آئی جی کراچی غلام نبی میمن ہوں گے۔

ٹیم کے دیگر اراکین میں پولیس کے محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کے ڈی آئی جی عمر شاہد حامد، ڈی آئی جی شرقی نعمان صدیقی اور ایس ایس پی کورنگی فیصل عبداللہ چاچڑ شامل ہوں گے۔

ٹیم آئی جی سندھ کو روزانہ کی بنیاد پر تحقیقات میں پیشرفت کی رپورٹ جمع کرائے گی اور ضرورت پڑنے پر کسی دوسرے یونٹ سے بھی رکن کو ٹیم میں شامل کی جائے گا۔

خیال رہے کہ 10 اکتوبر کو کراچی کے علاقے شاہ فیصل میں نامعلوم مسلح افراد نے جامعہ فاروقیہ کے مہتمم مولانا ڈاکٹر عادل خان اور ان کے ڈرائیور کو فائرنگ کرکے قتل کردیا

ڈاکٹر عادل خان وفاق المدارس کے سابق سربراہ مولانا سلیم اللہ خان مرحوم کے صاحبزادے تھے۔

حکام نے بتایا تھا کہ جامعہ فاروقیہ کے مہتمم ڈاکٹر عادل خان شاہ فیصل کالونی میں ایک شاپنگ سینٹر پر مٹھائیاں خریدنے کے لیے رکے تو مسلح افراد نے ان پر اندھا دھند فائرنگ کی اور فرار ہوگئے۔

لیاقت نیشنل ہسپتال کے ترجمان ڈاکٹر انجم رضوی نے تصدیق کی تھی کہ حملے کے بعد مولانا ڈاکٹر عادل خان کو لیاقت نیشنل ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں ڈاکٹروں نے انہیں مردہ قرار دیا۔

مزید یہ کہ جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر سیمی جمالی نے بتایا تھا کہ مولانا ڈاکٹر عادل خان کے ڈرائیور مقصود احمد ہسپتال پہنچنے سے پہلے ہی دم توڑ چکے تھے۔

مذکورہ واقعے پر وزیر اعلیٰ سندھ نے نوٹس لیا تھا اور انسپکٹر جنر (آئی جی) پولیس کو قاتلوں کی گرفتاری کا حکم دیا۔

مراد علی شاہ نے گزشتہ روز کراچی کے علاقے حب ریور روڑ میں واقع جامعہ فاروقیہ کراچی میں مولانا عادل خان کے بھائی مولانا عبیداللہ خالد اور بیٹے مولانا مفتی انس سے تعزیت کی۔

انہوں نے کہا کہ مولانا عادل خان ہمیشہ ہماری رہنمائی کرتے تھے اور ان کے قاتلوں کو جلد گرفتار کیا جائے گا۔

قبل ازیں پیپلز پارٹی کے رہنما سعید غنی نے کراچی میں پریس کانفرنس کے دوران مولانا عادل کی سیکیورٹی کے معاملے پر بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ میری اور ناصر حسین شاہ کی جب مولانا ڈاکٹر عادل خان سے بات ہوئی تھی تو انہوں نے خود ہمیں نہیں کہا تھا کہ انہیں سیکیورٹی درکار ہے لیکن ان کے بیٹے نے یہ ذکر ضرور کیا تھا اور ہم نے ان کو سیکیورٹی کی فراہمی پر کام شروع بھی کیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ کچھ عرصہ قبل وزیر اعلیٰ ہاؤس میں ہونے والے اجلاس میں بھی وہ شریک تھے اور وہاں بھی یہی بات ہوئی کہ انہیں سیکیورٹی نہیں ملی ہے، ہم نے آئی جی سندھ کی موجودگی میں انہیں یقین دہانی کرائی تھی کہ ان سمیت دیگر مایہ ناز علمائے کرام کو سیکیورٹی دی جائے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں