60

مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں کیخلاف ایس او پیز کی خلاف ورزی کا مقدمہ درج

مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں نے الزام عائد کیا کہ کیس سیاسی بنیاد پر بنایا گیا ہے—تصویر: وکیمیڈیا کامنز

لاہور: پولیس نے مسلم لیگ (ن) سے تعلق رکھنے والے رکن صوبائی اسمبلی خواجہ عمران نذیر کی گرفتاری کے بعد پولیس اسٹیشن پہنچنے والے پارٹی کے دیگر رہنما کے خلاف بھی مدقدمہ درج کرلیا۔

تفصیلات  کے مطابق چوہنگ پولیس نے مسلم لیگ (ن) کی سیکریٹری اطلاعات عظمیٰ بخاری، سابق وزیر صحت سائرہ افضل تارڑ، عطا تارڑ اور دیگر کے خلاف اس تھانے پر کہ جہاں گرفتار رکن صوبائی اسمبلی کو رکھا گیا تھا، مجمع اکٹھا کرنے پر اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجر(ایس او پی) کی خلاف ورزی اور اشتعال انگیز تقاریر کرنے کا مقدمہ درج کیا۔

واضح رہے کہ مسلم لیگ (ن) نے رکن صوبائی اسمبلی کی گرفتاری کے خلاف چوہنگ پولیس اسٹیشن کے نزدیک ملتان روڈ پر ٹریفک روک کر دھرنا دیا تھا۔

متعدد پارٹی رہنماؤں نے الزام عائد کیا کہ کیس سیاسی بنیاد پر بنایا گیا ہے اور لاہور پولیس میں مسلم لیگ (ن) کے کارکنان کو ہدف بنانے کے لیے ایک خصوصی ونگ بنایا گیا ہے۔

رہنماؤں نے دعویٰ کیا کہ خواجہ عمران نذیر کی گاڑی کی شناخت اور بلاک کرنے میں سیف سٹی کیمروں سے مدد لی گئی۔

مسلم لیگ (ن) نے اپنے رہنما کی گرفتاری اور نئے کیس کے اندراج کو حکمران جماعت پی ٹی آئی کی جانب سے اپوزیشن کے 11 رکنی اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے آئندہ ماہ ہونے لاہور میں ہونے والے جلسے کو نقصان پہنچانے کا اقدام قرار دیا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں