118

مذہبی جماعت کو اسلام آباد میں داخل ہونے سے روکنے کا فیصلہ، مذاکرات کی ناکامی پر آپریشن کرنے کا حکم، وزارت داخلہ

اسلام آباد (الشامی نیوز) وفاقی حکومت نے مذہبی جماعت کو اسلام آباد میں داخل ہونے سے روکنے کا فیصلہ کرلیا ہے، وزیراعظم عمران خان نے فیصلے کی توثیق کردی ہے،

مذہبی جماعت کے ساتھ مذاکرات کیے جائیں گے، مذاکرات کی ناکامی پرپولیس اور انتظامیہ کو آپریشن کرنے کا اختیار دے دیا گیا۔ ذرائع کے مطابق مذہبی جماعت حکومت نے مذہبی جماعت کے احتجاج کو اسلام آباد میں جانے کی اجازت نہ دینے کا فیصلہ کرلیا ہے، وزیراعظم عمران خان نے فیصلے کی توثیق کردی ہے۔وزارت داخلہ کی جانب سے راولپنڈی اور سلام آباد انتظامیہ کو واضح ہدایات جاری کردی گئی ہیں۔ پولیس اور انتظامیہ کے افسران نے راولپنڈی انتظامیہ سے بھی مشاورت کی ہے، پولیس اور انتظامیہ کو مذاکرات کی ناکامی پر مکمل طور پر آپریشن کرنے کا بھی اختیار دے دیا گیا ہے۔

اسی طرح انتظامیہ نے گزشتہ روزانٹرنیٹ اور موبائل فون سروس بھی بند کردی تھی، موبائل فون سروس اور سڑکوں کی بندش سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔اسی طرح وفاقی وزیراطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان اسلام کے صحیح سفیر کے طور پر دنیا کے سامنے پیش ہوئے۔ کوئی بھی جمہوری حکومت ایسے اجتماع کو زبردستی واپس نہیں بھیج سکتی۔ فیض آباد دھرنے والوں سے مذاکرات کر رہے ہیں، وزارت داخلہ اعلامیہ جاری کرے گی جس میں عوامی مسائل کا حل پیش کیا جائے گا۔ واضح رہے گزشتہ روز مذہبی جماعت نے فیض آباد میں دھرنا دیا، ان کا مطالبہ ہے کہ گستاخانہ خاکوں اور اسلامو فوبیا پر فرانس کے سفیر کو فی الفور ملک بدر کیا جائے۔ اگر مطالبہ پورا نہ کیا تو اسلام آباد کی طرف مارچ کریں گے۔ جس پر حکومت نے احتجاجی مارچ سے نمٹنے کیلئے اپنی تیاری مکمل کرلی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں