36

مجھے خوشی ہے کہ میں بینظیر کی برسی میں شرکت کے لئے جا رہی ہوں،میثاق جمہوریت کے بعد ملک کی سیاسی تاریخ تبدیل ہو گئی تھی،میں اور بلاول اس کو آگے لے کر بڑھیں گے، مریم نواز

لاہور ( الشامی نیوز) تفصیلات کے مطابق سکھر کے لئے روانگی سے قبل جاتی امرا کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز کا کہنا تھا کہ مجھے خوشی ہے کہ میں بینظیر کی برسی میں شرکت کے لئے جا رہی ہوں،میثاق جمہوریت کے بعد ملک کی سیاسی تاریخ تبدیل ہو گئی تھی،میں اور بلاول اس کو آگے لے کر بڑھیں گے،ہم مختلف سیاسی جماعتیں ہیں لیکن کچھ نکات پر ہم ایک پلیٹ فارم پر ہیں،ہمیں کئی بار مذاکرات کی پیشکش ہوئی لیکن نواز شریف اٹل فیصلہ کر چکے ہیں،مذاکرات کی پیشکش این آر او کی کوشش ہے جو حکومت کو نہیں ملے گی،جیل میں خاندان کو ملنے کی اجازت نہیں دی جاتی لیکن محمد علی درانی جیسے لوگوں کو ملنے کی اجازت دینا آنکھیں کھولنے کے لئے کافی ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ شہباز شریف اپنے بھائی اور پارٹی سے بہت زیادہ وفادار ہیں اسی لئے عمران خان کو سلیکٹ کیا گیا،یہ حکومت ہی دھاندلی کی پیداور ہے ،یہ حکومت اب کسی صورت نہیں چل سکتی، اس حکومت کی انتہائی بری پرفارمنس ہے اور یہ آئندہ انتخابات نہیں جیت سکتی،جعلی حکومت سے مذاکرات ہوں گے نہ ہی اسے این آر او دیں گے، حکومت پی ڈی ایم سے این آر او مانگ رہی ہے، حکمران کچھ بھی کرلیں اب انہیں گھر جانا ہوگا۔

مریم نواز نے مزید کہا کہ ہمارے اراکین نے 31 دسمبر تک اپنے استعفے پارٹی قیادت کو جمع کروانے ہیں،ہمارے 159 اراکین پنجاب اسمبلی کے استعفے میرے پاس آ چکے ہیں جبکہ قومی اسمبلی کے 95 فیصد اراکین کے استعفے بھی میرے پاس آ چکے ہیں،مرتضیٰ جاوید سمیت دونوں اراکین کے استعفے سپیکر تک کیسے پہنچے، ہم بھی حیران ہیں،سیاسی جماعتوں کے سینئر رہنماوں کو توڑنے کی کوشش کی جا رہی ہے،پارٹی میں اکثریت کی رائے ہے کہ ضمنی انتخابات میں حصہ نہ لیا جائے لیکن حتمی فیصلہ پی ڈی ایم کرے گی۔ 

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں