58

مافیا کے رمضان میں چینی کی قیمتیں آسمان پر لے جانے کے مذموم عزائم سامنے آگئے

 

غریب کیلئے خطرہ، رمضان میں چینی کی قیمت 115روپے ۔ فی کلو ہوسکتی ہے۔

مہنگائی کی چکی میں پسے عوام کو ایک کے ایک بعد ایک جھٹکے ملتے ہی رہتے ہیں، کبھی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی صورت میں تو کبھی اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ، اور اب تو ماہ رمضان سے قبل ہی شہریوں کو مشکل میں ڈالنے کی تیاریاں کی جارہی ہیں۔

ماہ رمضان میں سب سے زیادہ استعمال چینی کا ہوتا ہے جسے مہنگا کرنے کی ٹھان لی گئی ہے،رمضان میں چینی 115روپے کلو تک جا سکتی ہے، ملک بھر کی شوگر ملز نے خفیہ کارٹل کے ذریعے 6فروری کو چینی کے ایکس ملز ریٹ 50‘ 50 پیسے فی کلو بڑھا دیئے ہیں اور اسی تناسب سے شوگر ڈیلرز ایسوسی ایشن تھوک فروش‘ خوردہ فروش بھی چینی کی قیمتیں بتدریج بڑھا کر 95سے 105روپے کلو تک لے گئے ہیں۔

آنے والے ہفتے میں چینی کے ایکس ملز ریٹ 90روپے سے 95روپے کلو تک شوگر ملیں باہمی ایکا کے ذریعے کر دیں گی اور چینی کے ریٹ رمضان المبارک میں جو کہ 13اپریل سے شروع ہو رہا ہے سے پہلے ہی چینی کے ریٹ شب بارات کی وجہ سے ایک سو دس روپے سے ایک سو پندرہ روپے کلو تک پرچون میں ہو جائینگے اور ایکس ملز ریٹ شوگر ملز والے خفیہ کارٹل کے ذریعے پچانوے سے سو روپے کلو امکان کے طور پر کر دینگے۔ اب ملک میں چینی پرچون میں 105 روپے کلو اور تھوک میں پچانوے روپے کلو کر دی گئی ہے۔

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ ہی اشیائے ضروریہ کی قیمتیں بھی آسمان سے باتیں کرنے لگی ہیں،آٹا، چینی، گھی،تیل، دالیں اور چاول مہنگے ہوگئے ہیں،ملک میں گزشتہ ماہ کے دوران مہنگائی کی شرح 5 اعشاریہ 7 فی صد ریکارڈ کی گئی۔

وفاقی ادارہ شماریات کی جانب سے ماہانہ مہنگائی کی جاری کردہ تفصیلات کے مطابق جنوری میں مہنگائی کی شرح 5اعشاریہ 7 فیصد ریکارڈ کی گئی۔ جب کہ گزشتہ سال جنوری 2020 میں مہنگائی 14.6 فیصد ریکارڈ کی گئی تھی۔

ادارہ شماریات کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ ایک ماہ میں چینی 15 فیصد، گندم 8 فیصد، گھی 6 فیصد، کوکنگ آئل 3.28 فی صد مہنگا ہوا۔ اسی طرح سرسوں کا تیل 10 فیصد، دودھ کی فی لیٹر قیمت میں اڑھائی فیصد اور پھلوں کی قیمتوں میں پانچ فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں