20

لاہور: ‘باری کے بغیر ویکسینیشن‘ لگانے، دیگر بے ضابطگیوں پر 18 عہدیدار معطل

زیادہ تر شکایات لاہور پی کے ایل آئی اور ایکسپو ویکسینیشن مراکز سے سامنے آئیں، رپورٹ - فائل فوٹو:اے ایف پی

لاہور: سٹی ڈسٹرکٹ انتظامیہ نے ضلعی صحت اور لاہور میٹرو پولیٹن کارپوریشن سمیت دیگر محکموں کے 18 عہدیداروں کو مبینہ طور پر ‘آؤٹ آف ٹرن’ (باری کے بغیر) کورونا وائرس کی ویکسینیشن لگانے اور مختلف ویکسینیشن مراکز میں بے ضابطگیوں، رشوت لینے میں ملوث ہونے کے الزام میں معطل کردیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق زیادہ تر شکایات لاہور پی کے ایل آئی اور ایکسپو ویکسینیشن مراکز سے سامنے آئیں جس کے بعد انتظامیہ نے اس سلسلے میں مکمل تحقیقات کا آغاز کردیا۔

اطلاعات کے مطابق معطل ہونے والے افراد میں مبینہ طور پر رشوت لینے کے بعد لوگوں کو ویکسین لگانے میں محمد تنویر، بابر علی، فقیر حسین، نواز جان، سجاد علی، کرامت علی، امجد علی، تیمور فیاض اور محمد یوسف مبینہ طور پر ملوث تھے۔

تاہم آؤٹ آف ٹرن ویکسینیشن کے علاوہ دیگر الزامات کے تحت ملازمت سے معطل ہونے والوں کی شناخت محمد اکرام، محمد اسامہ، کاشف مسیح، بشریٰ فرمان، اللہ وسایا، شہزاد حسین، اقصیٰ شاہد، امتیاز علی اور عبیر شہزادی کے نام سے ہوئی ہے۔

لاہور کے کمشنر ریٹائرڈ کیپٹن محمد عثمان نے میڈیاکو بتایا کہ ‘شکایت پر یہ کارروائی کی گئی ہے، لاہور ڈی سی نے ضلعی ہیلتھ اتھارٹی کے منتظم کی حیثیت سے انکوائری کی اور لوگوں کو ویکسین لگانے میں رشوت لینے سمیت بے ضابطگیوں میں ملوث ہونے پر 18 اہلکاروں کو معطل کردیا ہے’۔

انہوں نے واضح کیا کہ ‘معطل ہونے والے افراد کا تعلق ضلعی محکمہ صحت سے ہے نہ کہ ایم سی ایل سے’۔

دوسری جانب لاہور ڈی سی نے بتایا کہ معطل افراد کا تعلق محکمہ صحت اور کارپوریشن (ایم سی ایل) سمیت مختلف محکموں سے ہے۔تحریر جاری ہے‎

انہوں نے کہا کہ ‘میرے خیال میں 18 نہیں 9 اہلکاروں کو معطل کیا گیا تھا تاہم اس حوالے سے تصدیق بعد میں کروں گا’۔

ان کا کہنا تھا کہ ملوث اہلکار رشوت لے کر شہریوں کو ویکسین لگاتے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘زیادہ تر شکایات پی کے ایل آئی ویکسینیشن سینٹر سے متعلق ہیں، کچھ ایکسپو سینٹر (جوہر ٹاؤن) سے متعلق ہیں، کنٹونمنٹ اسسٹنٹ کمشنر کو انکوائری آفیسر مقرر کیا گیا ہے’۔تحریر جاری ہے‎

ڈی سی نے بتایا کہ انہوں نے تمام اسسٹنٹ کمشنرز کو بھی ہدایت کی ہے کہ وہ ویکسین کے اسٹاک، ویکسین لگانے والے افراد کی تعداد اور ویکسین کا نام وغیرہ چیک کرتے رہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں