62

قومی اسمبلی میں اپوزیشن کے گو نیازی گو کے نعرے، وزیراعظم اجلاس چھوڑ کر چلے گئے

اپوزیشن نے قومی اسمبلی میں شدید احتجاج کیا—فوٹو:ڈان نیوز
اپوزیشن نے قومی اسمبلی میں شدید احتجاج کیا—فوٹو: الشامی نیوز

اسلام آباد (الشامی نیوز) وزیراعظم عمران خان کے قومی اسمبلی کے اجلاس میں پہنچتے ہی اپوزیشن نے شدید احتجاج شروع کیا اور نعرے بازی کی جس پر وہ فوراً واپس چلے گئے۔

قومی اسمبلی کے اسپیکر اسد قیصر کی زیر صدارت اجلاس شروع ہوا تو کراچی میں مولانا عادل خان، لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر بھارتی شیلنگ اور دہشت گردی میں شہید ہونے والے سیکورٹی اہلکاروں کے لیے دعائے مغفرت کی گئی۔

وزیراعظم عمران خان بھی اجلاس میں شرکت کے لیے پہنچے لیکن آغاز میں ہی اپوزیشن ارکان اپنی نشستوں پر کھڑے ہوگئے اور احتجاج کیا جبکہ اسپیکر سوالات کا سیشن شروع کرنے کی ہدایت کی لیکن اپوزیشن بدستور احتجاج کرتے رہے۔

اپوزیشن ارکان نے حکومت مخالف پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے اور چینی چوری کی سرکار نہیں چلے گی، جزائر پر قبضہ نامنظور، گو نیازی گو کے نعرے لگائے اور حکومت مخالف پوسٹر لہراتے رہے۔

اپوزیشن گو نیازی گو اور یہ بھاگا نیازی کے نعرے لگاتے رہے اور وزیراعظم عمران خان ایوان سے اٹھ کر چلے گئے، حکومتی اراکین کی جانب سے بھی نعرے بازی کی گئی جس کے بعد اسپیکر نے اجلاس 20 منٹ کے لیے ملتوی کردیا۔

قومی اسمبلی کا اجلاس 20 منٹ بعد شروع ہوا تو پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) نوید قمر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اجلاس آج کیوں بلایا گیا جب پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کا پہلا جلسہ ہونا تھا، حکومت کے اس اقدام کو ہم کیا سمجھیں کہ حکومت کی کوشش تھی اپوزیشن اسمبلی میں نہیں آئے۔

نوید قمر نے کہا کہ اپوزیشن کے بغیر پارلیمنٹ نہیں چلتی جبکہ اپوزیشن نے ایک مرتبہ پھر نعرے بازی شروع کردی۔

اس موقع پر مشیر پارلیمانی امور بابر اعوان نے قومی اسمبلی میں الیکشن ایکٹ 2017 میں ترمیم کا بل الیکشنز ترمیمی بل 2020 پیش کیا، جس کو متعلقہ کمیٹی کے سپرد کیا گیا۔

قبل ازیں اپوزیشن کے گجرانوالہ میں احتجاجی جلسے کے باوجود صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے سینیٹ اور قومی اسمبلی کا اجلاس طلب کیا تھا جبکہ اپوزیشن نے اس فیصلے پر تنقید کی تھی۔

صدر مملکت نے آئین کے آرٹیکل 54 (1) کے تحت دیے گئے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے یہ اجلاس طلب کیے ہیں تاہم نوٹی فکیشن جاری ہونے کے فورا بعد ہی پیپلز پارٹی نے حکومت کے فیصلے پر تنقید کی تھی۔

پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمٰن نے حکومت کے اس اقدام کو اپوزیشن رہنماؤں کی گوجرانوالہ میں ریلی میں شرکت سے روکنے کی کوشش قرار دیا۔

ٹوئٹر پر اپنے بیان میں ان کا کہنا تھا کہ ’سینیٹ اور قومی اسمبلی کا اجلاس آج اچانک طلب کیا گیا تاکہ ہم میں سے بہت سے لوگوں کو گوجرانوالہ جلسے میں شرکت سے روکا جاسکے، پوسٹرز ہٹائے جارہے ہیں، جھنڈے اتارے گئے ہیں، ہر جگہ کنٹینر لگا دیئے گئے، پی پی پی اور پی ڈی ایم کارکنوں کو گرفتار کیا جارہا ہے، کیا تباہی سرکار کو معلوم نہیں کہ یہ طریقہ کام نہیں کرے گا‘۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں