79

قائد اعظم کے مزار کو استعمال کرتے ہوئے جھوٹا مقدمہ درج کیا گیا، وزیراعلیٰ سندھ

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ—تصویر: ڈان نیوز
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی

کراچی ( الشامی نیوز) وزیراعلیٰ سندھ نے کہا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں کے خلاف جھوٹا مقدمہ درج کرنے کے لیے پولیس پر دباؤ ڈالا گیا۔-

وزیراعلیٰ ہاؤس میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کا 18 اکتوبر کو ہونے والا جلسہ کراچی کی تاریخ کا سب سے بڑا جلسہ تھا۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ جلسے کے موقع پر مسلم لیگ (ن) کے رہنما مزار قائد پر حاضری دی اور وہاں نعرے بازی ہوئی جو مناسب نہیں تھی لیکن یہ پہلی مرتبہ نہیں ہوا تھا اس سے قبل پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے یہی چیزیں دیکھی گئی تھیں اور انہوں نے مزار کے تقدس کو پامال کیا۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ یہ سیاسی معاملہ نہیں تھا، لیکن پی ٹی آئی کےا راکین اسمبلی نے آکر پولیس کو مقدمہ درج کرنے کی درخواست دی لیکن انہیں سمجھایا گیا کہ قانو ن کے تحت ایسا نہیں ہوسکتا جس کے بعد ان اراکین کے ساتھ قائد اعظم بورڈ کے رکن نے درخواست دی اور ایک مرتبہ پھر سمجھایا گیا کہ اس حوالے سے درخواست مجیسٹریٹ کو دی جاتی ہیں۔

وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ پولیس پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کی لیکن پولیس دباؤ میں نہیں آئی، پولیس کو ڈرانا اور دھمکانا منتخب نمائندوں کا کام نہیں ہوتا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت کوئی غلط کام پولیس کو نہیں کرنے دے گی، ہم جلسے سے شرکت کرکے واپس چلے گئے اور صبح پتا چلا کہ کیا ہوا۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ وفاقی وزرا کی بوکھلاہٹ عیاں تھی اور انہیں کوئی غیر قانونی کام کرنا تھا اس لیے ایک شخص سے درخواست دلوائی جس کے ساتھ پی ٹی آئی کے رہنما کھڑے تھے جس میں وقاص نامی شخص نے کہا کہ مجھے جان سے مارنے کی دھمکی دی گئی تو تم کس منصوبہ بندی کے تحت وہاں گئے تھے۔

وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ اگر کسی جماعت کا کوئی ایونٹ ہو اس میں دوسری جماعت کے شخص کا کیسے گیا اس کا مطلب کوئی سازش کی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان لوگوں نے میٹنگ کرکے منصوبہ بندی کر کے فیصلہ کیا کہ قائد اعظم کے مزار کو استعمال کرنا ہے، انہوں نے کوشش کی کہ جلسے میں کوئی تخریب کاری کا کام کریں،

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں