65

فوج نے پوری ایمانداری سے الیکشن کروائے اگر اس پر بھی کوئی شق و شبہات ہے تو پاکستان کے ادارے موجود ہے، میجر جنرل بابر افتخار ، ڈی جی آئی ایس پی آر

اسلام آباد: ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار نے کہاہے کہ فوج کو پاکستان کے سیاسی معاملات میں گھسٹنے کی کوشش نہ کی جائے،جو کچھ فوج کے حوالے سے کہا جا رہاہے وہ اچھی بات نہیں ہے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار کا کہنا تھا کہ گزشتہ 10سال پاکستان کے لیے چیلنجنگ وقت تھا، ہمیں بھارتی اشتعال انگیز یوں کا سامنا ہے، گزشتہ دہائی میں بھارت کی ایل اوسی کی خلاف ورزیاں جاری رہی جبکہ مغربی سرحدی پرسوشواکنامک پراجیکٹ کاآغازکیاجاچکاہے، ریاست اور قوم نے متحد ہو کر مشکلات کامقابلہ کیا،2020میں سکیورٹی چیلنجز کےعلاوہ کورونااورفوڈسکیورٹی کے مسائل تھے،2019 کی نسبت 2020میں دہشت گردی کے واقعات میں 45 فیصد کمی آئی، کراچی میں دہشت گردی میں 95 فیصد کمی آئی،خود کش حملوں میں 97 فیصد واضح کمی آئی،کراچی میں اغوا برائے تاوان میں 98 فیصد کمی نوٹ کی گئی،دہشت گردی کے خلاف کامیاب آپریشن کئے گئے جبکہ بھارت کے مذموم عزائم کی نشاہی اور مقابلہ کیا،آج پاکستان میں کوئی آرگنائزڈ دہشت گردتنظیم موجودنہیں،ملک میں مجموعی طور پر سکیورٹی کی صورتحال بہتر ہوئی ہے،آپریشن ردالفساد کے ذریعے ملک سے دہشت گردی کا خاتمہ کیاگیا،ردالفساد کے تحت3 لاکھ 71 خفیہ اطلاعات پر آپریشن کئے گئے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ مشرقی سرحدپر بھارت کی اشتعال انگیزیوں میں اضافہ ہوا،بھارت کے خلاف ای یو ڈس انفو لیب کے ذریعے شواہد سامنے آچکے ہیں،فروری 2019 میں پاکستان کے خلاف جارحیت کی ناکام کوشش کی گئی،اقلیتوں اور خواتین کے حوالے سے جھوٹا پروپیگنڈا کیاگیا،فیک این جی اوز کے ذریعے پاکستان کے خلاف سیمینارز کئے گئے،پاکستان نے ہمیشہ ذمہ دار ریاست کا ثبوت دیا ہے،پاک فوج بھارتی خلاف ورزیوں کا ہمیشہ بھر پور جواب دیا۔انہوں نے مزید کہا کہ فوج کا مورال اپنی جگہ قائم ہے اور فوج اپنا کام کر رہی ہے،جس نویت کے الزامات لگائے جا رہے ہے ان میں کوئی وزن نہیں،پاکستان کی فوج نے پوری ایمانداری سے الیکشن کروائے اگر اس پر بھی کوئی شق و شباب ہے تو پاکستان کے ادارے موجود ہے،فوج کو پاکستان کے سیاسی معاملات میں گھسٹنے کی کوشش نہ کی جائے،جو کچھ فوج کے حوالے سے کہا جا رہاہے وہ اچھی بات نہیں ہے۔

ایک سوال کے جواب میں ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اس ہفتے کوئٹہ جائیں گے، ہمارے میجر آپریشن مکمل ہو چکے ہے کوئی ایسا علاقہ بھی نہیں ہے جہاں اسٹیٹ کی ریٹ نہ ہوں،ہم نے ایک ڈوزر پیش کیا تھا اس کے اندر ایک مین ٹارگٹ ایریا بلوچستان تھا، بلوچستان کو ٹارگٹ کیا جا رہا تھا غیر ملکی قوتوں کی جانب سے، بلوچستان کی ایف سی کو بہتر کیا گیا ہے،اب نارتھ اور ساوتھ ایف سی بنا دی گئی ہے،اب ایک نیا ڈویثن سی پیک کے لیے بنا دیا گیا ہے،لگا تار انٹیلیجنس بیس آپریشن کر رہے ہیں،تھریٹ ہے لیکن ہم نے سکیورٹی بہتر کر دی ہے، بلوچستان کے ہر چپے چپے پر سکیورٹی آفسر کھڑا کرنا ممکن  نہیں لیکن ہم نے وہاں سکیورٹی بہت زیادہ بہتر کر دی ہے،انشااللہ بلوچستان اب سیف زون میں ہے،جہاں تک باڑ اکھاڑنے کی بات ہے تو یہ باڑ فوج کی طرف سے نہیں لگائی گئی یہ پاکستان کی عوام کے لیے لگائی گئی ہے،اس باڑ کو لگانے پر بھی ہم نے بہت سی قربانیاں دی ہیں، کسی کی مجال نہیں کے کوئی اس باڑ کو اکھاڑ سکیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں