57

عمران خان کا غرور پاکستان کے عوام مٹی میں ملا دے گی، بلاول بھٹو زرداری

کراچی ( الشامی نیوز) عمران خان کا غرور پاکستان کے عوام مٹی میں ملا دے گی، کٹھ پتلی وزیراعظم اور ان کے سہولت کاروں کو ماضی کے آمر کو یاد کرنا چاہیے

کراچی میں منعقدہ پی ڈی ایم کے دوسرے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نےکہا کہ آج پاکستان کے لیے تاریخی دن ہے، سانحہ کار ساز میں بے نظیر بھٹو اور شہدا کا غم زندگی بھر ہمارے ساتھ رہے اور پاکستان کی تاریخ میں سرخ حرفوں میں تحریر کیا جائے گا۔ہمیں اس غم کو اپنی طاقت میں بدلنا ہے۔بلاول بھٹو نے کہا کہ ‘بے نظیر بھٹو جانتی تھیں کہ اگر وہ جمہوریت، عوام اور سچائی کا راستہ چھوڑ دیں تو قاتلوں سے بچ سکتی تھیں لیکن وہ اپنی ہمت میں بے نظیر تھیں، انہوں نے کبھی عوام کا ساتھ نہیں چھوڑا۔ انہوں نے کہا کہ بھٹو اور بے نظیر نے ملک میں جمہوریت کی بقا کے لیے اپنا خون دیا، پاکستان کی تمام جمہوری طاقتوں کو یہ سفر جاری رکھنا ہے۔انہوں نے کہا کہ آج بہت اہم موڑ پر کھڑے ہیں، آئین کی بقا کی جنگ لڑنی ہے، تمام ادارے کھوکھلے کیے جارہےہیں جو عوام کا تحفظ کرتے ہیں۔بلاول بھٹو نے کہا کہ عوام کی ذمہ داریاں عوام کی برداشت سے زیادہ ہے اور حکمران اپنا فرض ادا کرنے سے منکر ہے۔جب جمہوریت نہ ہو تو فیصلے عوام کی منشا سے نہیں چند لوگوں کے لیے کیے جاتے ہیں ، منہگائی عروج پر ہے اور عوام کو شکایت کی اجازت نہیں ہے۔بلاول بھٹو نے کہا کہ حکومت کی ترجیح اپنے وزرا کو بچانا ہے، وزیراعظم کو روپے کی قدر میں کمی کی خبر ٹی وی سے ملتی ہے، عمران خان کو عوام کی بھوک اور غصہ نہیں نظر آتا۔انہوں نے کہا کہ مخالفین کے لیے نیب کا اندھا قانون ہے اور سلکیٹڈ وزیراعظم کے دوستوں کے لیے ساری چھوٹ ہے۔ بلاول نے کہا کہ پنجاب میں ڈمی وزیراعلیٰ لگا کر پنجاب کے عوام کے ساتھ مذاق کیا جارہا ہے۔چیئرمین پی پی پی نے کہا کراچی کے لیے ایک ہزار ارب روپے کا پیکج دھوکا اور یوٹرن نکلا، اس پپکج میں عوام کا ایک روپیہ بھی نہیں ، سندھ کو این ایف سی کے تحت 300 ارب روپے سندھ کو نہیں دیا گیا، اسی شہر کراچی میں 300 ارب روپے کے ساتھ روز گار فراہم کرسکتے تھے۔بلاول بھٹو نے کہا کہ ‘جہاں سے گیس نکلتی ہے وہاں کے لوگوں کو گیس فراہم نہیں کی جاتی، کے الیکٹرک عوام کا خون چوس رہا ہے اور عمران خان اپنے دوست کو بچانے کے لیے کراچی کے عوام کو اندھیرے میں دھکیل دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ‘ہمارے ہاں اب تک سیلاب کے متاثرین ہیں، تاریخی سیلاب اور مون سون دیکھا، کراچی سے بدین تک سیلاب کے متاثر آج بھی موجود ہیں لیکن وزیراعظم نے پوچھا تک نہیں۔بلاول بھٹو نے سندھ کے جزیروں سے متعلق آرڈیننس کے بارے میں کہا کہ اگر بدھ تک آرڈیننس واپس نہیں لیا تو سینیٹ میں قرار داد پاس کرکے مذکورہ آرڈیننس کو لات مار کر کے باہر پھینک دیں۔انہوں نے کہا کہ آئی لینڈ سندھ اور بلوچستان کی ملکیت ہے، وفاق کو آئی لینڈ پر قبضہ کرنے نہیں دیں گے۔بلاول بھٹو نے کہا کہ ‘کٹھ پتلی وزیراعظم کی وجہ سے خارجہ پالیسی متاثر ہوتی ہے، کشمیر کو بچانے والے بھارتی جاسوس کو بچانے کی بات کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ تمام پڑوسی اور دوست ممالک کے ساتھ تعلقات خطرے میں ڈال دیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ شہریوں کو لاپتہ کیا جارہا ہے اور اس جرم میں ریاست ملوث ہے، ہسپتال میں ادویات نہیں ہیں، تعلیم کا بجٹ کم کیا جارہاہے، معیشت تباہ ہوچکی ہے اور حکمران بے فکر ہے کیونکہ یہ عوام کے ووٹ سے بلکہ کسی اور کے کہنے پر آئے ہیں۔بلاول بھٹو نے کہا کہ ‘عمران خان کا غرور پاکستان کے عوام مٹی میں ملا دے گی، کٹھ پتلی وزیراعظم اور ان کے سہولت کاروں کو ماضی کے آمر کو یاد کرنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ یہ لڑائی نئی نہیں ہے بلکہ اب فیصلہ کن ہوگی، ہماری جمہوریت کے ساتھ کھیل بند کرنا ہوگا، جب پاکستان میں آمرانہ طاقتیں جمہوریت پر حملہ آور ہوئی ہیں تب تب پی پی پی کھڑی ہوئی ہے۔بلاول بھٹو نے کہا کہ آپ سے پہلے جو یہاں تخت نشین تھا وہ بھی نہیں رہا یہ کٹھ پتلی حکومت بھی نہیں رہے گی، یہاں بڑے بڑے آمر و جابر نہیں ٹک سکے تو یہ کٹھ پتلی کی اوقات کیا ہے ، یہ لڑائی فیصلہ کن ہوگی۔انہوں نے کہا کہ حکومت کس کس کو جیل میں ڈالے گی؟ کبھی سچ کو بھی قید رکھا گیا ہے؟ ہم ان دھمکیوں سے ڈرنے والے نہیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں