78

طلال چوہدری کی لیگی ایم این اے کے بھائیوں کے ہاتھوں پٹائی کی اصل وجہ سامنے آگئی

لاہور (الشامی نیوز) ہارون رشید نے انکشاف کیا کہ طلال چوہدری کی جو رپورٹ آئی ہے وہ نہایت ہی افسوسناک اور شرمناک ہے۔پہلی بار میں بتارہا ہوں کہ وہ خاتون (عائشہ رجب بلوچ) کوئی غلط کام نہیں کررہی تھیں، کوئی غیر شرعی کام نہیں کررہی تھی۔

طلال چوہدری نوازشریف دور میں وزیر مملکت برائے داخلہ رہے ہیں، انکے پاس ڈیٹا تھا، آئی بی میں انکے روابط تھے، انہوں نے ڈیٹا نکلوایا اور انکے صاحبزادے کو دیا اور اس ڈیٹا کو ایسے پیش کیا جیسے کوئی غلط کام کررہی تھی۔ وہ کوئی غلط کام نہیں کررہی تھی، طلال چوہدری نے اسکے گھر میں فساد برپا کرنے کی کوشش

دوسری جانب ایک نجی ٹی وی چینل کے مطابق طلال چوہدری تشدد کیس کی تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ مسلم لیگی رہنما پر تشدد کی بنیادی وجہ انکی جانب سے خاتون ایم این اے عائشہ رجب کے بیٹے کو اسکی ماں کے خلاف اکسانا تھا۔

رپورٹ کے مطابق دراصل عائشہ بلوچ ایک سیاسی رہنما سے دوسری شادی کی خواہشمند تھیں جبکہ طلال بھی عائشہ سے شادی کے خواہاں تھے چنانچہ انہوں نے رنگ میں بھنگ ڈالنے کے لیے عائشہ کے بیٹے کو یہ کہانی سنائی کہ ان کی والدہ ایک دو نمبر شخص سے دوسری شادی کی خواہش مند ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ طلال چوہدری تشدد کیس کی تحقیقاتی کمیٹی نے مکمل رپورٹ پارٹی قیادت کو پیش کر دی ہے ۔ بتایا گیا ہے کہ ایک بڑی سیاسی شخصیت کی جانب سے خاتون ایم این اے عائشہ رجب کو شادی کی آفر پر طلال چوہدری ناراض تھے جس کی بڑی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ طلال خود عائشہ رجب کے ساتھ شادی کی خواہش رکھتے تھے۔

رپورٹ کے مطابق طلال چوہدری نے مذکورہ خاتون ایم این کے جواں سال بیٹے کو سیاسی شخصیت کے ساتھ اس کی والدہ محترمہ کا فون ڈیٹا اور میسجزد کھائے جس پر نوجوان مشتعل ہوگیا اور اپنی والدہ کے ساتھ الجھ بیٹھا جبکہ والدہ نے کسی قسم کی شادی کی تردید کردی ۔ عائشہ رجب کے بھائی نے جب بھتیجے سے ناراضی کی وجہ پوچھی تو اس نے صاف بتادیا کہ اسے لیگی رہنما طلال چوہدری نے ماں سے متعلق ناقابل تردید ڈیٹا دکھایا ہے اس لئے وہ نہیں چاہتا کہ اس کی ماں کسی اور کی بیوی بنے۔

نجی چینل کے مطابق معاملہ واضح ہونے کے بعد عائشہ رجب کی فیملی نے فون کالز کرکے طلال چوہدری کو رات گئے خاتون ایم این اے کے گھر بلوالیا اور خاتون ایم این اے کے بھائی نے ڈیٹا سے متعلق پوچھا توطلال نے ڈیٹا فراہم کرنے سے انکار کر دیا جس پر دونوں کے درمیان جھگڑا ہوا۔ اس دوران طلال کا فون چھین کر عائشہ کی فیملی نے ان کی ویڈیو بھی بنائی اور تشدد کرکے بازو بھی توڑ دیا۔

طلال چوہدری جھگڑے کے بعد بھاگ کر ایک اورلیگی دوست کے گھر گئے اور اسے کہا کہ عائشہ کی فیملی سے میراموبائل واپس دلواؤ۔ کچھ ہی دیر بعد طلال چوہدری اپنے دوست اور اسکے مسلح گارڈز کے ساتھ اپنا موبائل لینے دوبارہ عائشہ رجب کی رہائشگاہ آئے تو خاتون ایم این اے نے 15پر کال کر دی، اسی دوران طلال چوہدری نے بھی پولیس کو فون کر کے بلا لیا 

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں