60

صوبہ بدر کرنا ہے تو گرفتار کرنا ہو گا، عوام کے ووٹوں پر ڈاکا ڈالنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ بلاول بھٹو

ہنزہ (الشامی نیوز) صوبہ بدر کرنا ہے تو گرفتار کرنا ہو گا، کسی کو گلگت بلتستان کے عوام کے ووٹوں پر ڈاکا ڈالنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ حکومت کو اب گھر جانا ہی ہو گا۔

ہنزہ میں انتخابی جلسے سے خطاب کے دوران بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ آصف زرداری نے گلگت بلتستان کو شناخت دلائی، پیپلزپارٹی نےایف سی آر نظام کا خاتمہ کیا، ہم نے گلگت بلتستان کو صوبائی اسمبلی اور وزیراعلیٰ دیا۔انہوں نے کہا کہ بھٹو، بی بی شہید کے نامکمل مشن کو مل کرمکمل کریں گے، گلگت بلتستان کےعوام کو روزگار دلوائیں گے، امید رکھتا ہوں کہ یہاں کے عوام ہمارا ساتھ دیں گے۔چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ گلگت سی پیک کےدروازےپراورگلگت والوں کوپوچھناپڑتا ہےکہ سی پیک کہاں ہے، گلگت کےعوام کوسی پیک کاسب سےپہلے فائدہ ہوناچاہیے تھا، حکومت میں آکر پسماندہ علاقوں کوترقی دیں۔ان کا کہنا تھا کہ ہم گلگت بلتستان کو حق ملکیت دلوانا چاہتے ہیں، گلگت بلتستان کے نمائندے کو قومی اسمبلی اورسینیٹ میں بٹھائیں گے۔اپنے خطاب میں بلاول بھٹو نے 15 نومبر تک گلگت بلتستان کے عوام کے ساتھ رہنے کا اعلان کیا اور کہا کہ سب جان لیں وہ گلگت بلتستان سے کہیں نہیں جا رہے۔انہوں نے کہا کہ اگر انہیں صوبہ بدر کرنا ہے تو گرفتار کرنا ہو گا، کسی کو گلگت بلتستان کے عوام کے ووٹوں پر ڈاکا ڈالنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ حکومت کو اب گھر جانا ہی ہو گا۔ان کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان کی ہر عورت بینظیر بننے کو تیار ہے، یہاں کے عوام کی محنت کی وجہ سے پی پی کامیاب ہوئی،آپ کے ووٹ کے بغیر عوامی نمائندہ نہیں آسکتا۔انہوں نے مزید کہا کہ بی بی شہید اور بھٹو شہید نے آپ سے کیے تمام وعدے پورے کیے، میں بھی آپ سے کیے اپنے تمام وعدے پورے کروں گا۔واضح رہے کہ گلگت بلتستان کورٹ کے چیف جج ملک حق نواز اور علی بیگ پر مشتمل2 رکنی بینچ نے جمعہ کے روز چیئرمین پیپلز پارٹی، وفاقی وزیر برائے امورِ کشمیر اور گلگت بلتستان علی امین گنڈا پور سمیت دیگر سرکاری عہدیداران کو انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر 72 گھنٹوں کے اندر علاقے سے باہر نکل جانے کا حکم جاری کیا تھا۔جبکہ گلگت بلتستان کے چیف الیکشن کمشنر (سی ای سی) راجا شہباز خان نے بھی ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے چیئرمین، وفاقی وزیر علی امین گنڈاپور اور دیگر سرکاری عہدیداران کو عدالتی احکامات کے مطابق گلگت بلتستان چھوڑنے کے لیے کہا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں