77

شہبازشریف اور مریم نواز کی عدالت میں ملاقات، شہباز شریف پر فرد جرم عائد کرنے کا فیصلہ


لاہور:ا (الشامی نیوز)اپوزیشن لیڈرشہبازشریف نے احتساب عدالت میں مسلم لیگ ن کی مرکزی نائب صدر مریم نواز سے ملاقات کی ہے۔ شہباز شریف پر فرد جرم عائد کرنے کا فیصلہ

احتساب عدالت مین منی لانڈرنگ اور آمدن سے زائد اثاثہ جات سے متعلق ریفرنس پرسماعت ہو رہی ہے۔ مسلم لیگ ن کی مرکزی نائب صدر مریم نواز بھی کمرہ عدالت میں موجود ہیں۔

لاہور کی کوٹ لکھپت جیل سے حمزہ شہباز کو بھی احتساب عدالت میں پیشی کیلئے پہنچا دیا گیا ہے۔

ن لیگی رہنما عطااللہ تارڑ کے مطابق مریم نواز شہبازشریف اور حمزہ شہباز سے پیشی کے بعد ملاقات کریں گی۔

شہباز شریف کو ضمانت مسترد ہونے پر لاہور ہائیکورٹ سے گرفتار کیا گیا تھا۔ نیب کا مؤقف ہے کہ شہباز شریف کے خلاف سٹیٹ بینک کے فنانشل مانیٹرنگ یونٹ کی جانب سے شکایت موصول ہونے پر انکوائری شروع کی۔

شہباز شریف اور ان کے صاحبزادوں نے 2008 سے 2018 تک 9 کاروباری یونٹس قائم کیے۔ 1990 میں شہباز شریف کے اثاثوں کی مالیت 21 لاکھ تھی۔ 2018 میں شہباز شریف  اور ان کے اہل خانہ کے اثاثوں کی مالیت بے نامی کھاتے داروں اور فرنٹ مین کی وجہ سے 6 ارب کے قریب پہنچ گئی۔

قومی احتساب بیورو کا مؤقف ہے کہ  شہباز شریف اور ان کے اہل خانہ نے کرپشن کرکے اس وقت 7 ارب سے زائد کے اثاثے بنا لیے ہیں۔

منی لانڈرنگ کیس میں شہباز شریف کے بیٹے سلمان شہباز اشتہاری قرار دیئے جا چکے ہیں۔ شہباز شریف اور دیگر اہل خانہ کے خلاف نیب منی لانڈرنگ کیس میں تمام قانونی تقاضے پورے کر رہا ہے۔

نیب کا کہنا ہے کہ شہباز شریف اور ان کے دونوں بیٹوں نے نو انڈسٹریل یونٹس سے دس برسوں میں اربوں کے اثاثے بنائے۔

تحقیقات کے مطابق شہباز شریف نے اپنے فرنٹ مین ، ملازمین اور منی چینجرز کے ذریعے اربوں روپے کے اثاثے بنائے۔ نیب کے مطابق شہباز شریف نے متعدد بے نامی اکاونٹس سے  اربوں روپے کی منی لانڈرنگ بھی کی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں