349

شریف فیملی کے چیف فنانشل آفیسر سے ہونے والی نیب کی تحقیقاتی رپورٹ

لاہور (الشامی نیوز) شریف فیملی کے چیف فنانشل آفیسر محمد عثمان سے اب تک ہونے والی نیب کی تحقیقاتی رپورٹ سامنے آگئی ہے، رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ملزم محمد عثمان نے شہباز شریف فیملی کے لیے منی لانڈرنگ کی۔

نیب رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ملزم محمد عثمان نے 2005 رمضان شوگر مل میں 90 ہزار ماہانہ پر نوکری شروع کی، 2006 میں نواز شریف فیملی نے شہباز شریف فیملی سے حدیبیہ انجینیرنگ مل لے لی۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ 2007 میں شہباز شریف فیملی نے اپنے بزنس کو بڑھانے کیلئے شریف فیڈ مل سمیت دیگر کمپنیاں بنائیں، نئی کمپنیز بنانے کے لیے محمد عثمان سے فنڈز سے متعلق سوالات کیے گئے۔

نیب رپورٹ میں کہا گیا کہ محمد عثمان کے مطابق نئی کمپنیز کے لیے غیرملکی ترسیلات اور قرضہ جات کے ذرائع بنائے گئے، غیر ملکی ترسیلات اور قرضہ جات کیلئے نصرت شہباز اور انکے بیٹوں کے بینک اکاؤنٹس استعمال کیے گئے۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ2007 سے قبل غیر ملکی ترسیلات کو حمزہ شہباز مینج کرتے تھے، جبکہ محمد عثمان سے شہباز شریف کے لیے منی لانڈرنگ سے متعلق سوالات بھی کیے گئے۔

نیب رپورٹ میں کہا گیا کہ ملزم محمد عثمان نے بیان دیا ہے کہ وہ سب کچھ سلمان شہباز کے کہنے پر کرتے تھے، سلمان شہباز کے کہنے پر وقار ٹریڈنگ کمپنی نے 600 ملین کی جعلی غیر ملکی ترسیلات کیں۔

نیب رپورٹ میں کہا گیا کہ ساری رقم چیک کے ذریعے سلمان شہباز کے ذاتی اکاؤنٹ میں منتقل کی گئی۔

محمد عثمان نے بیان دیا کہ سلمان شہباز کے پاس پیسا کہاں سے آتا ہے انہیں نہیں معلوم، جبکہ بے نامی اکاؤنٹس سے متعلق ملزم محمد عثمان سے تحقیقات ابھی جاری ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں