57

سی پیک اتھارٹی کا کوئی چیئرمین موجود نہیں ہے، موجودہ چیئرمین کی ذمے داری کیا ہے اور کیا وہ تنخواہ اور دیگر مراعات حاصل کررہے ہیں؟

اسلام آباد: (الشامی نیوز) حکومت نے منگل کو ایک پارلیمانی پینل کو بتایا کہ اس وقت پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) اتھارٹی کا کوئی چیئرمین موجود نہیں ہے کیونکہ اراکین قومی اسمبلی نے فی الحال کام نہ کرنے والی اس ایجنسی کی قانونی حیثیت اور اس کیے اعلیٰ انتظامیہ کے کام کو چیلنج کیا تھا۔

دلچسپ بحث و مباحثے اور وزارت منصوبہ بندی و ترقی کے اعلیٰ عہدیداروں سے وضاحت طلب کرنے کی غرض سے لیے گئے وقفے کے بعد قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے منصوبہ بندی، ترقی اور خصوصی اقدامات نے ‘پاک چین اقتصادی راہداری اتھارٹی (ترمیمی) بل 2020’ کو اگلے اجلاس تک موخر کردیا۔

جب قائمہ کمیٹی کے اجلاس کے دوران بل پر بحث شروع ہوئی تو رکن قومی اسمبلی سید آغا رفیع اللہ نے استفسار کیا کہ سی پیک اتھارٹی کا چیئرمین کون ہے؟ اس پر منصوبہ بندی اور ترقی کے سیکریٹری متھر نیاز رانا نے جواب دیا “کوئی نہیں۔”

قانون ساز نے پوچھا کہ تو پھر موجودہ چیئرمین کس قانون کے تحت کام کر رہے ہیں؟

سیکریٹری نے کہا کہ وہ صرف رابطہ کر رہے ہیں کیونکہ 31 مئی 2020 کو سی پیک آرڈیننس ختم ہو گیا تھا۔

آغاز رفیع اللہ نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جب مہینوں پہلے یہ آرڈیننس ختم ہوگیا تھا تو وہ کس قانون کے تحت کام کر رہے ہیں، انہوں نے پوچھا کہ کیا ہم ڈمی ہیں؟ ہم کس طرح کا قانون بنا رہے ہیں؟۔

رکن قومی اسمبلی عمران خٹک نے وزارت منصوبہ بندی کے عہدیداروں سے کہا کہ وہ کمیٹی کو بتائیں کہ اس وقت کون سی پیک اتھارٹی کا چیئرمین ہے، جواب پھر نفی میں تھا۔

جب رکن قومی اسمبلی نوید ڈیرو نے عہدیداروں سے واضح طور پر یہ بتانے کو کہا کہ اس وقت اتھارٹی کا چیئرمین کون ہے تو سرکاری جواب میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔تحریر جاری ہے‎

آغا رفیع اللہ نے وزارت منصوبہ بندی سے مطالبہ کیا کہ وہ تحریری وضاحت جاری کرے کہ سی پیک اتھارٹی کا کوئی چیئرمین نہیں ہے اور یہ بھی بتائے کہ جب آرڈیننس ختم ہو گیا تھا تو یہ کیسے کام کر رہا تھا۔

کمیٹی کے چیئرمین جنید اکبر نے پوچھا کہ کیا اس وقت سی پیک اتھارٹی کا کوئی چیئرمین موجود نہیں ہے، موجودہ چیئرمین کی ذمے داری کیا ہے اور کیا وہ تنخواہ اور دیگر مراعات حاصل کررہے ہیں؟

کمیٹی کے متعدد اراکین نے یہ بھی پوچھا کہ اس سال مئی میں آرڈیننس ختم ہونے کے بعد کیا سی پیک اتھارٹی کی جانب سے کسی بھی مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے۔

اس پر کمیٹی کے چیئرمین نے کہا کہ وہ پانچ منٹ تک کارروائی روکیں گے اور منصوبہ بندی اور سیکریٹری برائے ترقی سے اس معاملے پر واضح پوزیشن کے لیے حکومت سے رہنمائی لینے کو کہا۔

سیکریٹری ماتھر رانا تھوڑی دیر بعد واپس آئے اور بتایا کہ وزیر منصوبہ بندی و ترقیات اسد عمر سے رابطہ نہیں ہو سکا کیونکہ وہ کابینہ کے اجلاس میں شریک ہیں لیکن سی پیک اتھارٹی کے افسران نے تصدیق کی تھی کہ نہ تو کسی مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوئے ہیں اور آرڈیننس کی مدت ختم ہونے کے بعد وہ کوئی مراعات بھی حاصل نہیں کر رہے۔

اس سے کمیٹی مطمئن نہیں ہوئی جس کی خواہش تھی کہ واضح اور تحریری وضاحت جاری کی جائے اور اسے ریکارڈ پر رکھا جائے۔

سیکریٹری نے کمیٹی کو یقین دلایا کہ وہ معاملہ وزیر کے پاس اٹھائیں گے اور پینل کی ہدایت کے بارے میں انہیں آگاہ کریں گے۔

تبادلہ خیال کے دوران سیکریٹری رانا نے کمیٹی کو بتایا کہ مجوزہ بل کے تحت سی پیک اتھارٹی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر کے عہدے کو ختم کیا جارہا ہے اور چیئرمین سی پیک اس کی سربراہی کریں گے۔

انہوں نے بتایا کہ مجوزہ بل میں چیئرمین کا تقرر کیا جائے گا اور متعلقہ ڈویژن کے ذریعے وزیر اعظم کو رپورٹ کریں گے۔

سوالوں کے جواب میں پینل کو بتایا گیا کہ سی پیک اتھارٹی کی اعلیٰ انتظامیہ کی جانب سے نیک نیتی کے ساتھ کیے گئے اقدامات اسی طرح کی دیگر اتھارٹی کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات سے مطابقت رکھتے ہیں لیکن اراکین نے ’نیک نیتی‘ کی تعریف پر تحفظات کااظہار کیا۔

منصوبہ بندی کے سیکریٹری نے کہا کہ کمیٹی کی ہدایت پر انہوں نے سی پیک کے افسران سے بات کی ہے اور “نیک نیتی” کے ساتھ ان کے ردعمل کی اطلاع دی ہے۔

اس بات کی نشاندہی کی گئی کہ اسی موضوع پر پہلے والا آرڈیننس حکومت نے واپس لیا تھا لہٰذا فوری بل پیش کیا گیا تھا۔

قومی اسمبلی نے ایک تحریری بیان میں کہا ہے کہ کمیٹی سئے پوچھا جاتا ہے کہ جب آرڈیننس واپس لیا گیا تھا تو اتھارٹی کس قانون کے تحت کام کررہی ہے۔ سیکریٹری نے کمیٹی کو یقین دلایا کہ وہ معاملہ وزیر کے پاس اٹھائیں گے اور پینل کی ہدایت کے بارے میں انہیں آگاہ کریں گے۔

تبادلہ خیال کے دوران سیکریٹری رانا نے کمیٹی کو بتایا کہ مجوزہ بل کے تحت سی پیک اتھارٹی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر کے عہدے کو ختم کیا جارہا ہے اور چیئرمین سی پیک اس کی سربراہی کریں گے۔

انہوں نے بتایا کہ مجوزہ بل میں چیئرمین کا تقرر کیا جائے گا اور متعلقہ ڈویژن کے ذریعے وزیر اعظم کو رپورٹ کریں گے۔

سوالوں کے جواب میں پینل کو بتایا گیا کہ سی پیک اتھارٹی کی اعلیٰ انتظامیہ کی جانب سے نیک نیتی کے ساتھ کیے گئے اقدامات اسی طرح کی دیگر اتھارٹی کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات سے مطابقت رکھتے ہیں لیکن اراکین نے ’نیک نیتی‘ کی تعریف پر تحفظات کااظہار کیا۔

منصوبہ بندی کے سیکریٹری نے کہا کہ کمیٹی کی ہدایت پر انہوں نے سی پیک کے افسران سے بات کی ہے اور “نیک نیتی” کے ساتھ ان کے ردعمل کی اطلاع دی ہے۔

اس بات کی نشاندہی کی گئی کہ اسی موضوع پر پہلے والا آرڈیننس حکومت نے واپس لیا تھا لہٰذا فوری بل پیش کیا گیا تھا۔

قومی اسمبلی نے ایک تحریری بیان میں کہا ہے کہ کمیٹی سئے پوچھا جاتا ہے کہ جب آرڈیننس واپس لیا گیا تھا تو اتھارٹی کس قانون کے تحت کام کررہی ہے۔

منصوبہ بندی اور ترقیات کے سیکریٹری نے کمیٹی کو یقین دہانی کرائی کہ وہ اگلے اجلاس میں بتائیں گے کہ سی پیک اتھارٹی کے چیئرمین کس حیثیت اور کس قانون کے تحت اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں۔

اراکین نے بل کا مطالعہ اور اس پر فیصلہ کرنے کے لیے کچھ وقت دینے کی درخواست کی، کمیٹی نے متفقہ طور پر بل کو اپنے اگلے اجلاس تک موخر کرنے کا فیصلہ کیا۔

اجلاس میں شیر اکبر خان، صالح محمد، سید فیض الحسن، نواب شیر، سردار نصر اللہ خان دریشک، عمران خٹک، محمد سجاد، محمد جنید انور چوہدری، سردار محمد عرفان ڈوگر، نوید ڈیرو، سید آغا رفیع اللہ اور عبد الشکور نے شرکت کی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں