55

سینیٹ میں رضا ربانی کے نعرے، بعد میں معذرت، ہمیں اسلام آباد یا پنڈی سے حب الوطنی کے سرٹیفیکٹ لینے کی ضرورت نہیں، سینیٹر رضا ربانی

https://imasdk.googleapis.com/js/core/bridge3.471.1_en.html#goog_161092294Play Video

سینیٹ میں اپوزیشن نے وفاقی وزیر امور کشمیر علی امین گنڈا پور کے بیان کے خلاف احتجاج کیا، سینیٹر رضا ربانی نے ایوان میں نعرے لگوا دیے اور پھر بعد میں معذرت کر لی، رضاربانی نے کہا کہ ایک دوسرے کو برا بھلا کہنے والی سیاست تباہی کی طرف لے جائے گی۔

سینیٹ اجلاس میں سابق چیئرمین سینیٹ رضا ربانی نے شہید ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف حکومتی وزیر کے بیان پر نعرے لگائے اور پھر معذرت کرلی اور کہاکہ پاکستان آج اس بات پر اترا رہا ہے کہ اس کے پاس ایٹم بم ہے تویہ بھٹو کی وجہ سے ہے، آج پاکستان بھارت کی آنکھوں میں آنکھ ڈال کردیکھ سکتا ہے تو اس کیلئے بھٹو نے پھندا چوما تھا۔

رضا ربانی نے کہاکہ ایک ایسے علاقے آزاد کشمیر میں جاکر بھٹو کے بارے میں بات کی گئی ہے، جس شخص نے ہندوستان کی آنکھوں میں آنکھ ڈال کر کہاں ہم ہزار سال لڑیں گے، جس نے کہا گھاس کھائیں گے ایٹمی پروگرام پر سمجھوتہ کرنے کو تیار نہیں، تو آج آپ اس شخص کے لیے ایسے الفاظ استعمال کرتے ہیں۔

پی پی رہنما نے کہاکہ ہمیں اسلام آباد یا پنڈی سے حب الوطنی کے سرٹیفیکٹ لینے کی ضرورت نہیں، وہ شخص جو شہد پیتا ہے وہ بھٹو کو یہ لقب دے رہا ہے، بھٹو 90 ہزار قیدیوں کو واپس لایا، پاکستانی کو پاکستانی ہونے کی شناخت دی۔

انہوں نے کہاکہ کچھ ایسی لیڈرز ہوتے ہیں جو اپنی جان دے دیتے ہیں اصول پر سمجھوتہ نہیں کرتے، بھٹو امریکی سامراج سے سمجھوتہ کرسکتا تھا لیکن نہیں کیا، جس شخص نے فلسطین کے لیے فضائیہ کو دیا آپ اس کے لیے یہ الفاظ کہتے ہیں، جس نے لاہور میں سب اسلامی ممالک کو اکھٹا کیا اور کہا ہماری فوج سب اسلامی ممالک کی ہے، آپ اسے غدار کہنا چاہتے ہیں۔

رضا ربانی کاکہنا تھا کہ اس طرح کی سیاسی گفتگو ہونی ہے تو یہاں کوئی محفوظ نہیں رہے گا، شہد کی بات کو حذف کردیں لیکن آج مجھ پر جذبات طاری ہیں، آج سیاست کے اقدار کو پھینک دیا گیا ہے، سابق وزیر اعظم کو چور ڈاکو کے لقب سے بات کریں گے، ہماری زبان کھلے گی تو مناسب نہیں ہوگا، یہ سیاست تباہی کی طرف لے کر جائے گی۔

سابق چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ ایسے واقعات پاکستان میں ہوئے ہیں جس کی وجہ سے سننا پڑا ہے میرے عزیز ہم وطنو، یہ تو ملک چھوڑ کر چلے جائیں گے لیکن اٹک قلعہ اور جیل ہمارے لیے ہوں گے، کیا ایک بار پھر ہم اس روش کی طرف تو نہیں نکل 

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں