60

سندھ ہائی کورٹ نے اسپٹنک فائیو ویکسین فروخت کرنے کی اجازت دی

سندھ ہائی کورٹ نے ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان(ڈریپ) کی استدعا مسترد کرتے ہوئے نجی کمپنی کو کورونا ویکیسن اسپٹنک فائیو کی فروخت کی اجازت دے دی۔

سندھ ہائی کورٹ میں کورونا ویکیسن اسپٹنک فائیو کی ریلیز سے متعلق درخواست کی سماعت ہوئی۔

دوران سماعت ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان(ڈریپ) نے توہین عدالت کی درخواست پر جواب جمع کرادیا گیا جس میں کہا گیا کہ 31 مارچ کو ویکیسن ریلیز کردی تھی۔

عدالت نے ڈریپ سے استفسار کیا کہ کیا آپ نے ویکیسن کی ریلیز میں کوئی روکاٹ ڈالی تھی؟۔تحریر جاری ہے‎

ہائی کورٹ نے کہا کہ ویکیسن جتنی جلدی لوگوں کو لگ سکتی ہے لگ جائے کیونکہ ایسی صورتحال میں ویکسی نیشن روکنا مناسب نہیں ہے۔

ڈریپ حکام نے کہا کہ ہم نے کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی تھی۔

عدالت نے مزید استفسار کیا کہ کیا پرائس مقرر ہونے کے بعد معاملہ حل ہو جائے گا؟ جس پر درخواست گزار نجی کمپنی کے وکیل نے جواب دیا کہ نہیں پرائس فکس ہونے سے بھی معاملہ حل نہیں ہو گا۔

کمپنی کے وکیل نے اس موقع پر عدالت میں سوال اٹھایا کہ اگر ویکیسن کی قیمت 8ہزار روپے مقرر ہوجاتی ہے تو کیا ہم فروخت کر سکتے ہیں یا نہیں۔‎

ڈریپ کے وکیل نے جواب دیا کہ جب ویکیسن کی درآمدات کی اجازت دی گئی تھی تو اس وقت بھی قیمت مقرر نہیں کی گئی تھی اور کہا گیا تھا کہ ویکیسن کی قیمت فکس کرنے کا معاملہ ابھی چل رہا ہے۔

سندھ ہائی کورٹ نے کہا کہ عدالت ویکیسن فروخت کرنے سے روکنے نہیں جا رہی، آخر حکومت اب تک کیا کررہی تھی، قیمت فکس کیوں نہیں کی گئی۔

ڈریپ کے وکیل نے استدعا کی کہ آئندہ ہفتے تک ویکیسن کی فروخت روک دیں، اس دوران ہم قیمت فکس کردیں گے۔

اس پر عدالت نے ریمارکس دیے کہ آپ کو تو جلدی کرنی چاہیے کیونکہ کورونا کی تیسری لہر آچکی ہے۔‎

ڈریپ کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ اگر یہ ویکسین فروخت کررہے تو کس کو فروخت کررہے ہیں جس پر نجی کمپنی کے وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ ہم پرائس ڈیٹا دینے کو تیار ہیں۔

درخواست گزار کمپنی نے کہا کہ 10 لاکھ خوراکوں کا معاہدہ کرلیا تھا جس میں سے 50 ہزار ویکیسن منگوالی تھی، کمپنی نے ویکیسن کی قیمت 12 ہزار 226 روپے مقرر کر رکھی ہے اور ہر شہری کی مرضی ہے وہ کتنے پیسوں میں ویکسینیشن کراتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم نے غیر ملکی کمپنی سے 20 لاکھ ویکیسنز کا معاہدہ کررکھا ہے اور معاہدے کے مطابق غیر ملکی کمپنی سے یہ ویکیسن لینی ہے ورنہ بھاری نقصان ہوگا۔

عدالت نے کورونا ویکیسن اسپٹنک فائیو کی فروخت کی اجازت دیتے ہوئے درخواست کی مزید سماعت 12 اپریل تک ملتوی کردی۔

واضح رہے کہ نجی کمپنی اے جی پی لمیٹیڈ نے روس سے اسپٹنک ویکسین درآمد کرنے کا معاہدہ کیا ہے اور 18 مارچ کو ویکسین کی 50ہزار خوراکیں پاکستان پہنچ گئی تھیں۔

اسپٹنک ویکسین کو سوویت دور کی سیٹلائٹ کا نام دیا گیا ہے اور اسے کلینیکل ٹرائل سے کئی ماہ قبل ہی روس میں استعمال کی منطوری دے دی گئی تھی جس پر ابتدائی طور پر ماہرین نے اپنے تحفظات کا اظہار کیا تھا۔

البتہ 20 ہزار شرکا پر کیے گئے ویکسین کے نئے تجربے سے یہ ثابت ہوا ہے کہ کووڈ-19 کی یہ ویکسین 90فیصد افادیت کی حامل ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ روز سندھ ہائی کورٹ کے ڈویژنل بینچ نے ایک رکنی بینچ کو ہدایت کی تھی کہ وہ کووڈ-19 ویکسین کی درآمدات کے سلسلے میں ڈریپ کی جانب سے نجی کمپنی کو دیے گئے استثنیٰ کی واپسی کے خلاف حکم امتناع کا فیصلہ کرے۔

دلائل کے دوران ڈویژن بینچ کو بتایا گیا کہ ڈریپ نے 2 فروری کو جاری کردہ نوٹیفکیشن کو واپس لے لیا ہے جس کے تحت اس نے 6ماہ کی مدت یا مارکیٹ میں ویکسین کی قیمتوں کی دستیابی تک ہسپتالوں اور اداروں میں فروخت کے لیے کووڈ-19 ویکسین کی درآمد کے لیے استثنیٰ دیا تھا۔

اس حوالے سے مزید دلیل دی گئی کہ اس طرح فرم نے کووڈ-19 ویکسین (اسپٹنک-فائیو) کی 10 لاکھ خوراکیں فی یونٹ 45 ڈالر کی شرح سے درآمد کے لیے غیر ملکی فروخت کنندہ / برآمد کنندہ کے ساتھ ویکسین کی فراہمی کا معاہدہ کیا اور ویکسین کی مقدار پہلے ہی کراچی پہنچ چکی ہے لیکن یہ نوٹیفکیشن واپس لے لیا گیا۔

25 مارچ کو سندھ ہائی کورٹ کے ایک رکنی بینچ نے قانونی فرم کے عبوری حکم پر ویکسین کی درآمد کی اجازت دینے والے مذکورہ نوٹیفکیشن کو منسوخ کردیا تھا۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے دیگر قانون افسران اور وکلا کے ہمراہ دلائل دیتے ہوئے کہا تھا کہ استثنیٰ کا نوٹیفکیشن واپس لینے کے بعد ڈریپ نے کووڈ-19 ویکسین کی قیمتیں طے نہیں کی تھیں اور معاملہ زیر التوا ہے اور قیمتوں کا تعین کیے بغیر مذکورہ ویکسین کی فروخت غیر قانونی ہو گی۔

انہوں نے استدلال کیا کہ ڈریپ ایک ہفتے میں ویکسین کی قیمت مقرر کرے اور ایک ہفتے میں اس سلسلے میں پیشرفت پر رپورٹ کرے۔

فارما کمپنی کے وکلا نے استدلال کیا کہ ایسے استثنیٰ کی بنیاد پر فرم نے معاہدہ کیا اور جب کھیپ کراچی پورٹ پہنچی تو انہوں نے اچانک اس نوٹیفکیشن کو واپس لے لیا جو بلاجواز ہے۔

درخواست دہندگان کے وکیل کے بارے میں کہا گیا ہے کہ قیمتوں کے تعین سے قبل فرم کو ویکسین فروخت کرنے سے روکنا چاہیے، فرم کے وکیل نے دلیل دی کہ لاٹ کی ریلیز کا سرٹیفکیٹ جاری کرنے کے باوجود کراچی میں فیڈرل ڈرگ انسپکٹر متعلقہ دستاویزات پر دستخط نہیں کررہے، لہٰذا جب تک یہ مشق مکمل نہیں ہوتی اس وقت تک ویکسین کی فروخت ممکن 

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں