43

سعودی حکومت کا حکم نہ ماننے پر متعدد مساجد کے پیشِ اماموں کو فارغ کردیا گیا

ریاض :(الشامی نیوز (آن لائن نیوز) گزشتہ ہفتے کئی امام مسجدوں کو نوکری سے برخاست کر دیا گیا ہے۔وزیر موصوف نے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان اماموں کو اس بنا پر نوکری سے ہٹا یا گیا کہ منسٹری کی طرف سے بھیجا گیا ہدایت نامہ کہ لوگوں کو مسلم بھائی چارہ اور اس تنظیم سے متعلقہ لوگوں سے ہمدردی سے دور رکھا جائے جیسے احکامات پر عمل درآمد نہیں کرا سکے تھے۔عبدل اللطیف بن عبدل العزیز الشیخ نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وزارت مذہبی امور کی کوئی ذاتی خواہش یا پسند ناپسند نہیں تھی کہ ان مساجد کے اماموں کو ملازمت سے فارغ کر دیا جائے تاہم محکمانہ حکم اور اعلیٰ افسران کے حکم کی تعمیل کس قدر ضروری ہے یہ بتانے کے لیے ایسا کرنا ضروری تھا۔

وزیر محترم کا کہنا تھاکہ ان امام مساجد کی نوکری جانے میں اصل قصور ان کا اپنا ہے کیونکہ وہ منسٹری کی طرف سے ملنے والے حکمنامے پر من و عن عمل نہیں کروا سکے تھے۔تاہم انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ انہیں فارغ کرنے کا یہ مقصد ہرگز نہیں ہے کہ وہ مسلم بھائی چارہ تنظیم سے منسلک ہیں یا پھر ان کے پرچارک تھے۔مگر انہیں اس جرم کی سزا دی گئی ہے وہ منسٹری کی طرف سے ملنے والے حکمنامے پر عمل درآمد کرانے میں کافی سست تھے یا بالکل ناکام تھے۔لہٰذا اب ان کی جگہ ایسے امام مسجد تعینات کیے گئے ہیں جو کہ ان سے زیادہ ایکٹو ہیں اور انہیں مناسب تربیت بھی دی گئی ہے کہ لوگوں کو مسلم بھائی چارہ تنظیم کے تاثر سے کیسے نکالنا ہے اور ان کی آئیڈیالوجی کو کیسے نفی کرنا ہے۔یاد رہے کہ سعودی عرب نے مسلم بھائی چارہ تنظیم کو 2014میں دہشت گرد تنظیم ڈیکلیئر کیا تھا جس کے بڑھتے ہوئے اثرورسوخ کو کاﺅنٹر کرنے کے لیے امام مساجد کو ڈیوٹی تفویض کی گئی تھی کہ لوگوں کو اس سے متعلق آگاہ کرے۔چونکہ یہ لوگ منسٹری کے حکم پر ان کی مرضی کے مطابق عمل پیرا نہیں تھے لہٰذا سختی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسلامک منسٹری نے ان تمام امام مسجدوں کو ان کی ملازمت سے فارغ کرتے ہوئے نئے امام مساجد تعینات کر دیے ہیں تاکہ لوگوں کو مسلم بھائی چارہ تنظیم کے اثر سے دور رکھا جا سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں