92

سانحہ مچھ: وزیر داخلہ سے مذاکرات ہزارہ قبیلہ کا دھرنا تیسرے روز بھی جاری

کوئٹہ: وزیرداخلہ شیخ رشید احمد سے مذاکرات ناکام ہونے کے بعد سانحہ مچھ کے خلاف کوئٹہ میں ہزارہ قبیلہ کا دھرنا تیسرے روز بھی جاری ہے۔ 

دھرنے کے شرکاء نے تاحال سانحہ میں قتل ہونے والے کوئلہ کان کنوں کی 10 میتوں کو نہیں دفنایا جنہیں ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب مچھ کے علاقے گشتوری میں مسلح افراد کی جانب سے قتل کیا گیا تھا۔

گزشتہ رات وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے کوئٹہ پہنچ کر دھرنے کے شرکا سے مذاکرات کیے جو ناکامی سے دوچار ہوئے۔

دھرنے کے شرکا نے مطالبہ کیا ہے کہ جب تک وزیر اعظم عمران خان خود دھرنے کے مقام پر نہیں آئیں گے اس وقت تک ان کا دھرنا جاری رہے گا۔

ہزارہ برادری کے رہنماؤں کا کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان کے علاہ کسی دوسرے سے مذاکرات نہیں کریں گے۔

وزیراعظم عمران خان کی خصوصی ہدایت پر وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد سانحہ مچھ میں جاں بحق ہونے والے افراد کے لواحقین اور دھرنا دینے والے احتجاجی مظاہرین سے بات چیت کے لیے کوئٹہ پہنچے تھے۔

ہم نیوز کے مطاق وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے مظاہرین کو بتایا کہ وزیراعظم نے پیغام دیا کہ کسی بھی صورت میں سانحہ مچھ کے مجرمان کو نہیں چھوڑا جائے گا۔

اس موقع پر دھرنے کے شرکا سے بات چیت کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے کہا کہ حکومت سانحہ گشتوری میں ملوث افراد کو جلد گرفتار کرکے کیفر کردار تک پہنچائے گی۔

انہوں نے سانحہ میں شہید ہونے والے کان کنوں کے ورثاء کے لیے وفاقی حکومت کی جانب سے دس، دس لاکھ جبکہ بلوچستان حکومت کی جانب سے 15 لاکھ روپے معاوضہ دینے کا بھی اعلان کیا تھا-

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں