28

سابق ڈپٹی چیئرمین سینیٹ بڑی مشکل میں پھنس گئے

اسلام آباد: (الشامی نیوز)سابق ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سلیم مانڈوی والا مشکل میں پھنس گئے، پلاٹس کی غیر قانونی الاٹمنٹ کیس میں عدالت نے ان پر فرد جرم عائد کرنےکا فیصلہ کیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد کی احتساب عدالت میں کڈنی ہلز ریفرنس میں پلاٹس کی غیر قانونی طورپر الاٹمنٹ کیس کی سماعت ہوئی، جہاں عدالت نے ریفرنس میں نامزد سلیم مانڈوی والا ، اعجاز ہارون ، عبد الغنی مجید کی بریت کی اپیل خارج کر دی۔

عدالت نے ریفرنس میں نامزد سابق ڈپٹی چیئرمین سلیم مانڈوی والا پر فرد جرم عائد کرنے کا فیصلہ کیا اور فرد جرم عائد کرنے کیلئے چوبیس مئی کی تاریخ مقرر کردی۔

یاد رہے کہ رواں سال انیس جنوری کو ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کو کڈنی ہلز پلاٹس الاٹمنٹ کیس میں باقاعدہ ملزم نامزد کیا گیا تھا، دیگر ملزمان میں اعجاز ہارون، ندیم حکیم مانڈوی والا، عبدالقادر شیوانی، عبدالقیوم، عبدالغنی مجید اور مبینہ بے نامی طارق محمود شامل تھے۔

جعلی اکاؤنٹس اسکینڈل میں نیب کے ریفرنس میں کہا گیا ہے کہ اعجاز ہارون کو الاٹمنٹس کے بدلے بھاری رقوم جعلی اکاؤنٹس سےملیں، اعجاز ہارون نے کڈنی ہلز فلک نما میں پلاٹس کی بیک ڈیٹ فائلیں تیار کیں، سلیم مانڈوی والا نے پلاٹس عبدالغنی مجید کو بیچنے میں اعجاز ہارون کی معاونت کی، انھوں نے پہلے ایک بے نامی کے نام پر پلاٹ خریدا، بعد میں پلاٹ بیچ کر دوسرے فرنٹ مین کے نام پر بے نامی شئیر خریدے، کڈنی ہلز پلاٹس کی فروخت کے بدلے میں رقم آئی ہی جعلی اکاؤنٹس سے تھی۔

احتساب عدالت میں پیش کردہ نیب ریفرنس کے مطابق سلیم مانڈوی والا اور اعجاز ہارون کو 14 کروڑ جعلی اکاؤنٹس سے وصول ہوئے، سلیم مانڈوی والا اور ندیم مانڈوی والا نے رقم سے منگلا ویو کمپنی کے شیئر خریدے، یہ شیئرز بے نامی طارق محمود کے نام پر خریدے گئے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں