102

ریٹائرڈسرکاری ملازمین کی پنشن اور مراعات قومی خزانے پر بوجھ بن گئیں؟

اسلام آباد (الشامی نیوز) اسٹیٹ بینک پاکستان سرکاری ملازمین کی پنشن و دیگر مراعات کو خزانے پر بوجھ قرار دے دیا، نئی سفارشات کی روشنی میں اصلاحات لانے کی ضرورت؟

اسٹیٹ بینک نے مالی سال 21-2020 کی پہلی سہ ماہی کی جائزہ رپورٹ میں سرکاری ملازمین کی پنشن کے معیشت پر پڑنے والے اثرات کا نہ صرف جائزہ لیا بلکہ ان اخراجات اور سالانہ بنیادوں پر ہونے والے مسلسل اضافے کو تشویشناک قرار دیا۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی سالانہ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں پنشن اور بعد از ریٹائرمنٹ فوائد کے حصول کے لیے سرکاری ملازمین میں قبل از وقت ریٹائرمنٹ کا رجحان زور پکڑ رہا ہے، رپورٹ کے مطابق 2019 میں ریٹائرمنٹ لینے والے 60 فیصد سرکاری ملازمین نے قبل از وقت ریٹائرمنٹ لی۔

رپورٹ کے مطابق اسٹیٹ بینک نے واضح کیا ہے کہ مسلسل بڑھتے پنشن کے اخراجات معیشت کو کمزور بنا رہے ہیں اور قرضوں کے بوجھ تلے دبی ہوئی ملکی معیشت اس بوجھ کی متحمل نہیں ہوسکتی۔ کیونکہ مجموعی محصولات کا 18.7 فیصد پنشن اور بعد از ریٹائرمنٹ مالی سہولتوں کی ادائیگیوں پر خرچ ہورہا ہے۔

مرکزی بینک نے کہا کہ پنشن کے اخراجات صحت اور تعلیم سے بھی زیادہ ہیں گزشتہ دہائی کے دوران پنشن کی مد میں ہونے والے اخراجات دگنے ہوگئے اور مالی سال 2020 میں پنشن پر421 ارب روپے مختص کیے گئے جب کہ آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک نے پنشن کی ادائییگوں پر اعتراض کیا ہے۔

اس رپورٹ کی روشنی میں اسٹیٹ بینک نے عالمی اداروں آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کی سفارشات کی روشنی میں میں اصلاحات پر زور دیا ہے۔ تاہم اب دیکھنا ہے کہ حکومت آنے والے وقت میں کیا فیصلہ کرتی ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں