59

رنگ روڈ اسکینڈل، سابق کمشنر راولپنڈی کا 4 روزکا جسمانی ریمانڈ منظور

راولپنڈی رنگ روڈ اسکینڈل میں گرفتارسابق کمشنر راولپنڈی محمد محمود کا 4 دن کا جسمانی ریمانڈ منظور کرلیا گیا۔

 محمد محمود اور شریک ملزم وسیم علی تابش کو جوڈیشل مجسٹریٹ یوسف عبدالرحمان کی عدالت میں پیش کیا گیا، اینٹی کرپشن حکام نے ان کے 14 روزہ جسمانی ریمانڈکی استدعا کی۔

 اینٹی کرپشن حکام نےعدالت کو بتایا کہ کمشنر نے بطور پراجیکٹ ڈائریکٹر اختیارات استعمال کرتے ہوئے رنگ روڈ کی الائنمنٹ تبدیل کی، اس عمل سے منصوبے کی لاگت 6ارب 24کروڑ 70لاکھ روپے سے بڑھ کر 16ارب 30کروڑ روپے ہو گئی، شریک ملزم وسیم علی تابش پر الزام ہےکہ انہوں نے بغیر الائنمنٹ کی منظوری کے اٹک کی زمین کے لیے2 ارب 6کروڑ روپے تقسیم کیے۔

ملزموں کے وکلا ء نے عدالت کو بتایا کہ چیئرمین نیب نے راولپنڈی رنگ روڈ کیس میں انکوائری کی منظوری دی، مگر فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی نےمحمد محمود کو کلیئر کر دیا تھا، اس کیس میں کوئی فراڈ ثابت نہیں ہوا، سابق کمشنر نے اپنے تمام اثاثوں کا ریکارڈ بھی پیش کیا ہے۔

 وکلاء کا کہنا تھا کہ  سابق کمشنر اینٹی کرپشن کے ہر طلبی نوٹس پر حاضر ہوئے، اس سارے کیس میں وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار اور زلفی بخاری بھی ملوث تھے مگر ایک بندے کو گرفتار کر لیا گیا۔

اینٹی کرپشن کے وکیل نےکہا کہ ملزم نے 2018ء کے بعد رنگ روڈ کا نقشہ تبدیل کیا، ملزم نےسڑک 18 کلو میٹر سے بڑھا کر 36 کلو میٹر تک کی، مجسٹریٹ نے دلائل سننےکے بعد دونوں کا19جولائی تک جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں