90

دہشت گردوں اور اس ملک کے دشمنوں کے خلاف ایکشن لینے کی ہمارے وزیراعظم میں ہمت نہیں ، بلاول بھٹو زرداری

لاہور (الشامی نیوز) جمہوری قوتوں کو بند کرنا ہے، سیاسی مخالفین کو بند کرنا ہے، بلاگرز اور میڈیا مالکان کو بند کرنا ہے مگر دہشت گردوں اور اس ملک کے دشمنوں کے خلاف ایکشن لینے کی ہمارے وزیراعظم میں ہمت نہیں ہے

۔ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی مزاحمت اور تحریکیں چلانے کی ایک تاریخ ہے اور اگر اس لانگ مارچ کو کامیاب ہونا ہے تو وہی لوگ جو ضیا کی آمریت کا مقابلہ کرتے تھے، جو مشرف کی آمریت کا مقابلہ کرتے تھے ان کو مل کر اس سلیکٹڈ نظام کا مقابلہ کرنا پڑے گا۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے لوگوں میں جو جوش ہے وہ آپ کے سامنے ہے اور یہ حکومت اور اس کے نمائندے ان کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم نے عوام کو متحرک رکھنے کا عمل جاری رکھا ہوا ہے اور ہمارا مطالبہ بھی آپ کے سامنے ہے کہ 31جنوری تک عمران خان کو مستعفی ہونا پڑے گا۔

بلاول نے کہا کہ 16دسمبر ہماری تاریخ میں بہت بھاری دن ہے، مشرقی پاکستان یعینی بنگلہ دیش ہم سے الگ ہوا اور 16دسمبر 2014 کو آرمی پبلک اسکول پر دہشت گردی کا حملہ کیا گیا اور وہ بھی ہماری ادوں میں تازہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ خصوصاً اس حکومت نے جس طریقے سے اے پی ایس کے بچوں اور والدین کو لاواراث چھوڑا ہے، ہم اس کی مذمت کرتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ جس طریقے سے ان کے دور میں اے پی ایس واقعے میں ملوث احسان اللہ احسان جیل سے بھاگا ہے، ہم سمجھتے ہیں عمران خان اپوزیشن کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں کہ ہم ایمنسٹی نہیں دیں گے، چھوڑیں گے نہیں کیونکہ یہ دنیا کے سامنے ہے کہ عمران خان نے دہشت گردوں کو چھوڑنا ہے، ملک دشمنوں کو چھوڑنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان نے بند کرنا ہے تو جمہوری قوتوں کو بند کرنا ہے، سیاسی مخالفین کو بند کرنا ہے، بلاگرز اور میڈیا مالکان کو بند کرنا ہے مگر دہشت گردوں اور اس ملک کے دشمنوں کے خلاف ایکشن لینے کی ہمارے وزیراعظم میں ہمت نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم اے پی ایس کی برسی کے دن وزیراعظم کا استعفیٰ اس لیے بھی مانگتے ہیں کہ اس نالائق، نااہل اور ناجائز وزیر اعظم کے دور میں اے پی ایس کے بچوں کے قاتل کو آزادی ملی ہے اور یہ حکومت ان بچوں کے قاتل کو جیل میں ڈالنے کی کوئی کوشش نہیں کررہی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں