66

حکومت کا تحریک لبیک سے متعلق نیا فرمان، بڑی پابندی لگا دی

Mumtaz Shami

کالعدم تحریک لبیک کا لیڈر کہیں بھی تقریر نہیں کر سکتا ہے،محکمہ داخلہ نے تحریک لبیک کے تمام رہنماؤں اور علما پر پابندی کے باعث زبان بندی کا حکم دے دیا

کالعدم تحریک لبیک کے تمام رہنماؤں اور علما کی زبان بندی کا حکم دے دیا گیا۔تفصیلات کے مطابق محکمہ داخلہ نے تحریک لبیک کے تمام رہنماؤں اور علما پر پابندی کے باعث زبان بندی کا حکم دیا ہے۔کوئی بھی کالعدم تحریک لبیک کا لیڈر کہیں بھی تقریر نہیں کر سکتا ہے۔محکمہ داخلہ کے مطابق کالعدم تحریک کے لیڈر مسجد میں بھی تقریر نہیں کر سکتے، ان کے فیس بک اکاؤنٹ بند کر دیئے گئے ہیں۔واٹس ایپ گروپ بھی بند کر دیے گئے ہیں۔ کالعدم تحریک لبیک کے کسی رہنما پر تقریر کرنے پر مکمل پابندی عائد کی گئی ہے۔کالعدم تحریک لبیک کے خلاف مزید شکنجہ سخت کرتے ہوئے کاونٹر ٹیررزم ڈیپارٹمنٹ بھی حرکت میں آ گیا ہے۔کالعدم تنظیم کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی تحقیقات کا بھی آغاز کردیا گیا ہے جبکہ کالعدم تنظیم کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی فہرستیں تیار کرلی گئیں۔گزشتہ سال سی ٹی ڈی کو کاروائی کے اختیارات دیے گئے تھے۔سائبر کرائم ونگ نے اکاونٹ چلانے والوں کے خلاف تحقیقات کا آغاز کر رکھا ہے۔نیشنل کاؤنٹر ٹرارزم اتھارٹی (نیکٹا) اور محکمہ داخلہ کی رپورٹ میں بھی کہا گیا کہ تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) نے حکومتی رٹ تباہ کردی ہے۔ جبکہ حکومت کے چھ کے قریب اداروں نے تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کو پاکستان کی قومی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا۔ٹی ایل پی کے حالیہ احتجاج کے نتیجے میں نیکٹا، محکمہ داخلہ پنجاب، اسپیشل برانچ پولیس، انٹیلی جنس بیورو اور وزارت داخلہ اور خارجہ امور نے ٹی ایل پی کو دہشت گردی کا نیا دور قرار دیتے ہوئے اسے سیاسی تشدد اور قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا اور کہا کہ یہ اب حکومتی رٹ کو تباہ کررہی ہے۔ یاد رہے کہ کہ گذشتہ روز حکومت پاکستان نے مذہبی جماعت تحریک لبیک پاکستان پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا تھا جس کا اعلان وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے ایک پریس کانفرنس کے دوران کیا ۔ وزیراعظم عمران خان نے بھی تحریک لبیک پاکستان پر پابندی عائد کرنے کی سمری کی منظوری دی جبکہ وفاقی کابینہ نے بھی ٹی ایل پی پر پابندی عائد کرنے کی باقاعدہ منظوری دے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں