132

حکومت نے مفرور کو بیرون ملک جانے کی اجازت دی مگر الزام عدلیہ پر لگا دیا گیا ، اطہر من اللہ چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ

اسلام آباد ( الشامی نیوز) پیمرا کی پابندی کو ختم کیا گیا تو ہر مفرور چاہے گا اسے ایئر ٹائم دیا جائے جبکہ حکومت نے مفرور کو بیرون ملک جانے کی اجازت دی مگر الزام عدلیہ پر لگا دیا گیا

تفصیلات کے مطابق جمعرات کو پیمرا کی جانب سے نواز شریف کی تقریر نشر کرنے پر پابندی کے خلاف درخواست کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اگر پیمرا کی پابندی کو ختم کیا گیا تو ہر مفرور چاہے گا اسے ایئر ٹائم دیا جائے جبکہ حکومت نے مفرور کو بیرون ملک جانے کی اجازت دی مگر الزام عدلیہ پر لگا دیا گیا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا ہے کہ عدالت مفرور ملزمان کو ریلیف نہیں دے سکتی جبکہ عدالت نے درخواست گزار کے وکیل سے کہا ہے کہ وہ درخواست کے قابل سماعت ہونے سے متعلق دلائل دیں۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ کا کہنا تھا کہ سلمان اکرم راجہ آئندہ سماعت پر درخواست کے قابل سماعت ہونے پر دلائل دیں  اور دوران سماعت چیف جسٹس نے درخواست گزاروں کے وکیل سلمان اکرم راجہ سے استفسار کیا کہ آپ ریلیف کس کے لیے مانگ رہے ہیں،  اس آرڈر کا کسی کو تو فائدہ ہوگا۔

عدالت نے وکیل سے پوچھا کہ پیمرا نے کس پر پابندی عائد کی ہے؟، سلمان اکرم راجہ نے جواب دیا کہ پیمرا نے کسی کے خلاف آرڈر پاس نہیں کیا جس  پر عدالت نے کہا کہ درخواست گزار متاثرہ فریق نہیں ہے جبکہ اس آرڈر سے دو لوگ متاثر ہیں۔

سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ دو نہیں ہزارواں افراد متاثر ہیں اور اس پر عدالت نے کہا کہ جو متاثرہ فریق ہے وہ پیمرا کے حکم کے خلاف اپیل کرسکتا ہے۔

دوسری جانب عدالت جنرل پرویزمشرف کیس میں پہلے ہی فیصلہ دے چکی ہے اور چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ حالیہ سالوں میں سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے عدلیہ کو بہت کچھ برداشت کرنا پڑا اور  پرویز مشرف کیس میں کہہ چکے کسی مفرور کے لیے کوئی ریلیف نہیں جبکہ  بینچ نے ریمارکس دیے کہ مفرور ملزم کی تو شہریت منسوخ ہوسکتی ہے اور مفرور ملزم کا شناختی کارڈ اور پاسپورٹ منسوخ کیا جاتا ہے۔

واضح رہے عدالت نے دونوں کے دلائل اور گفتگو سنے کے بعد کیس کی مزید سماعت 16 دسمبر تک ملتوی کر دی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں