59

جلسہ ناکام کرنے میں سی پی او لاہور عمرشیخ کامیاب اعلی حکام کی شاباش

لاھور (الشامی نیوز)حکومتی عہدیدراران خوش ہیں۔عمران خان حکومت لاہور کے جلسے سے قبل دباؤ محسوس کر رہی تھی کیونکہ اس بات کا امکان تھا کہ لاہوری بڑی تعداد میں باہر نکلیں گے اور اپوزیشن ایک بڑا شو کرنے میں کامیاب ہو جائے گی۔لاہور جلسے کے بعد حکومتی رہنماؤں کے لب و لہجے میں اعتماد بھر گیا ہے۔وہ دھڑا دھڑ بیانات دے رہے ہیں،ٹویٹر پر متحرک ہیں اور پریس کانفرنس کر رہے ہیں۔ لاہور کے لوگ بہت کم تعداد میں جلسے میں شریک ہوئے ہیں۔اس کی وجہ تو سردیوں کا موسم بتایا جا رہا ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ کورونا وبا بھی ایک وجہ تھی۔انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کے پاس کہنے کو کوئی نئی بات نہیں تھی۔وہ گذشتہ جلسوں میں آرمی چیف اور آئی ایس آئی کے سربراہ کے نام لے کر تنقید کر چکے تھے۔اس کے بعد اگلا مرحلہ کوئی نہیں تھا با خبر ذرائع کے مطابق  پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں سے بات ہوئی ہے۔انہوں نے بتایا کہ عمر شیخ نے سی سی پی او لاہور بننے کے بعد ن لیگ کے بڑے بڑے قبضہ گروپ اور گینگز پر ہاتھ ڈالا ہے جس کی وجہ سے ن لیگ کا اثر کم ہوا ہے۔انہوں نے بتایا کہ پی ٹی آئی رہنماؤں کے مطابق لاہور پولیس میں بڑے پیمانے پر تبادلے اور تقرریاں کی گئی ہیں۔ن لیگ کئی حمایتی ایس ایچ اوز کو ایک طرف کر دیا گیا ہے۔یہ بھی ایک وجہ بنی ہے۔سی سی پی او لاہور عمر شیخ نے ن لیگ کے حمایتیوں کو ڈرایا دھمکایا بھی ہے۔پولیس میں ایس ایچ او لیول پر کچھ تقاریر بھی کی گئی اور ن لیگ کے کئی لوگوں کو آگے پیچھے کی گئی۔مجھے بتایا گیا ہے کہ تھانوں میں درجنوں نئے ایس ایچ او لگائے گئے ہیں۔نواز شریف کے دور مکیں رکھے گئے لوگوں کو ہٹایا گیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں