83

>تدفین کو وزیراعظم کی آمدسے مشروط نہ کریں، وزیر اعلیٰ بلوچستان وفاقی وزراءکی اپیل

کوئٹہ (الشامی نیوز) وزیراعظم پہلے بھی آئے تھے اب بھی آئیں گے

وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال اور وفاقی وزراء نے سانحہ مچھ کے لواحقین سے شہداء کی تدفین کی اپیل کردی۔

وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال اور وفاقی وزیر علی زیدی نے دھرنا مظاہرین سے اپیل کی کہ تدفين ايک دينی فريضہ ہے،اسے پورا کرنا چاہيئے، دينی فرض کو وزيراعظم کے آنے سے مشروط نہ کريں، صدر اور وزيراعظم سربراہ ہيں وہ ضرور آئيں گے۔ خدا کے واسطے شہدا کو دفنايا جائے۔

ہزارہ ٹاؤن میں وفاقی اور صوبائی وزراء کے ہمراہ پريس کانفرنس کرتے ہوئے وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ ہم دھرنا مظاہرين سے بات کريں گے، ماضی کی نسبت بلوچستان ميں امن برقرار رہا، يہ شہر ہمارا ہے،صوبہ ہمارا ہے، ہم سب ايک ہيں۔ دھرنا مظاہرین سے بات کریں گے وہ ہمارے بھائی ہیں۔

وزیراعلیٰ بلوچستان نے مزید کہا کہ سانحہ مچھ پر بہت افسردہ ہيں،اس شہر اور صوبے کی ذمہ داری ہر لحاظ سےہماری ہے، ملک دشمنوں کو ہمارا ايک ہونا پسند نہيں۔ ہم کسی کو ايک دوسرے سے الگ نہيں ديکھنا چاہتے۔

انہوں نے کہا کہ ہزارہ ٹاؤن والے خود بھی گواہی ديں گے کہ معاملے کو کيسے ڈيل کيا گيا، بلوچستان ميں بھائی چارے کیلیے ڈھائی سال ميں بہت محنت کی،10 سال بلوچ عوام نےبہت مشکل وقت ميں گزارے۔

وزیراعلیٰ بلوچستان کا مزید کہنا تھا کہ ہزارہ مزدوروں کا قتل بہت بڑا سانحہ ہے، دشمن ملک کا امن برباد کرنا چاہتا ہے۔

اس موقع پر وفاقی وزیرعلی زیدی نے کہا کہ ملک دشمن اس طرح کی حرکتیں کرتے ہیں،ہمیں جلدازجلد شہداء کی تدفین کرنی چاہیے، وزيراعظم پچھلی باربھی آئے تھے اس بار بھی آئيں گے۔

علی زیدی نے مزید کہا کہ دشمن ملک کے جاسوس کلبھوشن یادیو جیسے لوگ یہیں سے پکڑے گئے تھے، کچھ دن قبل بلوچستان میں پاک فوج کےجوانوں کو شہید کیا گیا۔

واضح رہے کہ 2 اور 3 جنوری کی درمیانی شب مچھ میں 10 کان کنوں کے قتل کا واقعہ پیش آیا تھا جس کے خلاف کوئٹہ کے مغربی بائی پاس پر ہزارہ برادری کا دھرنا چوتھے روز میں داخل ہوگیا۔

یاد رہے کہ وفاقی حکومت کی مذاکراتی کمیٹی اور سانحہ مچھ کے لواحقين کے درميان مذاکرات ناکام ہوئے تھے جس کے بعد دھرنا جاری رکھنے کا اعلان کیا گیا 

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں