46

بلوچستان ہائیکورٹ، سرکاری افسران و ملازمین کو اضافی تنخواہوں کی ادائیگی غیرقانونی قرار، واپس لیکر خزانے میں جمع کرانے کا حکم

بلوچستان ہائیکورٹ، سرکاری افسران و ملازمین کو اضافی تنخواہوں کی ادائیگی غیرقانونی قرار، واپس لیکر خزانے میں جمع کرانے کا حکم

کوئٹہ(الشامی نیوز) بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس جمال خان مندوخیل اور جسٹس عبدالحمید بلوچ پر مشتمل بینچ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کو دیا جانیوالا کیش ایوارڈ غیر قانونی اقدام قرار دیتے ہوئےتمام اہلکاروں اور افسروں سے رقم واپس لیکر قومی خزانے میں جمع کرانے کا حکم دیا ہے عدالت نے یہ حکم بایزید خان خروٹی کی جانب سے صوبے کے سرکاری ملازمین کو کیش ایوارڈ سے متعلق دائر درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے دیا، عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ بجٹ بنانا اضافی نہیں معمول کا کام ہے، فنانشل ڈیلی گیشن رولز 2019کی غلط تشریح کی گئی،گورنمنٹ آف بلوچستان ڈیلی گیشن آف پاور2019کا جو حوالہ دیاگیا ہے جس میں کیش ایوارڈ کے معنی ہے وہ پیسہ جو کسی ملازم کو مجاز حکام کی منظوری کیساتھ دیا جائے اور اتھارٹی کا استعمال کرتے ہوئے دیا جائے جس کے معنی کوئی خاص کارنامہ جو کہ انجام دیا جائے یا عام فرائض سے ہٹ کر ملازم کوئی کام کرے یا پھر کوئی بہت ہی خاص کارنامہ یا کوئی

اسپیشل ٹاسک کرنے پر پورا کیا جائے کے رول کے تحت مجاز حکام نے منظوری دی ہے جبکہ کیش ایوارڈ کی سمری کے مطابق فنانس کے تمام سٹاف نے و دیگر محکموں کی معاونت سے کررونا وائرس میں ڈبل شفٹ تعاون کیا ہے جو رولز ہائی کورٹ میں دوران سماعت فراہم کردی گئی ہے ان کے مطابق مجاز اتھارٹی صرف اور صرف رولز میں دئیے گئے رقم کے مطابق ہی کیش ایوارڈ جو کہ تین ماہ کی بیسک تنخواہ سے زیادہ نہیں دے سکتا جو رولز کے شق نمبر2(1)Cمیں وضاحت کے ساتھ موجوہے رولز میں کہاگیا ہے کہ آفیسر یا اہلکار کو یہ ایوارڈ دیا جاسکتا ہے جو اس نے فرائض سے ہٹ کر کوئی کام کیا ہووزیراعلیٰ بلوچستان کو ارسال کردہ سمری میں بھی فرائض کا ذکر نہیں ہے سمری میں لکھاگیا ہے کہ بجٹ کی تیاری میں ڈبل شفٹ کام کیاگیا ہے جس سے سوال پیدا ہوتا ہے کہ بجٹ میں ایسا کیا تھا جو کہ سرکاری اہلکاروں کے فرائض اور ڈیوٹی کے اوقات میں نہیں کیا جاسکتا تھا اگر اس بات کا یقین کیا جائے کہ افسران نے ڈیوٹی سے زیادہ کام کیا ہے تو ان کو اعزازیہ دینا چاہئے اعزازیہ کی تعریف رول میں صرف بیسک پے یا بنیادی تنخواہ کے مطابق دی گئی ہے سمری میں درج کی گئی بنیا د اس بات پر پوری نہیں اترتی تھی کہ ملازمین کو فنانشل رولز کے تحت کیش ایوارڈ دیا جائے سمری میں فنانس ڈیپارٹمنٹ کے اہلکاروں اور افیسران کا تنخواہوں سے زیادہ کام کرنے کا ذکر ہے جبکہ اس سے سوال پیدا ہوتا ہے کہ دوسرے ڈیپارٹمنٹ کے لوگوں نے ایسا کیا کیا کہ تنخواہ سے زیادہ کام تھا اس سے ظاہر ہے کہ فنانشل ڈیلی گیشن رولز 2019کی غلط تشریح کی گئی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں