64

بلاول بھٹو کا گلگت بلتستان کے انتخابات ’چوری‘ ہونے کا الزام

گلگت بلتستان اسمبلی کی 23 نشستوں پر انتخابات گزشتہ روز منعقد ہوئے تھے—فائل فوٹو: ٹوئٹر

اسلام آباد ( الشامی نیوز) پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے گلگت بلتستان کے انتخابات ’چوری‘ ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے احتجاج کرنے کا اعلان کیا ہے۔

سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک پیغام میں چیئرمین پی پی پی نے کہا کہ ’میرا الیکشن چوری کرلیا گیا، میں جلد گلگت بلتستان کے عوام کے احتجاج میں ان کے ساتھ شریک ہوں گا‘۔


BilawalBhuttoZardari@BBhuttoZardariMy election has been stolen. I will be joining the people of Gilgit-Baltistan in their protest shortly.1:45 PM · Nov 16, 20203.1K2.1K are Tweeting about this

خیال رہے کہ گلگت بلتستان اسمبلی کی 23 نشستوں پر انتخابات گزشتہ روز منعقد ہوئے تھے جس کے اب تک کے غیر حتمی غیر سرکاری نتائج کے مطابق پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو واضح برتری حاصل ہے

ٖغیر حتمی نتائج کے مطابق اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) دوسرے نمبر پر ہے اور پی پی پی کے علاوہ مسلم لیگ (ن) نے بھی پولنگ اور گنتی کے عمل کے دوران بے ضابطگیوں اور مبینہ دھاندلی کے الزامات عائد کیے۔

دوسری جانب مسلم لیگ (ن) نے گلگت بلتستان کے انتخابات میں دھاندلی کے الزمات عائد کرتے ہوئے کہا کہ جو چیزیں 2018 کے عام انتخابات میں دیکھی گئیں وہ ہی سب گلگت انتخابات میں بھی ہوا۔

گزشتہ روز بھی پیپلز پارٹی کی جانب سے الزامات عائد کیے گئے تھے کہ ریٹرننگ افسران گنتی کا عمل مکمل ہونے کے باوجود نتائج کا اعلان نہیں کررہے اور غذر کے ایک پولنگ اسٹیشن میں رات 11 بجے تک پولنگ جاری رہی اور اس کے بعد پی ٹی آئی کارکنوں نے موقع سے بیلٹ باکس چھینے۔تحریر جاری ہے‎

علاوہ ازیں ووٹوں کی گنتی کے وقت اسکردو میں پیپلز پارٹی اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے کارکنان کے مابین جھڑپ بھی ہوئی تھی۔

دوسری جانب ترجمان بلال بھٹو زرداری مصطفیٰ نواز کھوکھر نے گزشتہ روز بھی الزام عائد کیا تھا جن حلقوں میں کانٹے دار مقابلہ ہے وہاں پولنگ کا عمل سست روی کا شکار کیا گیا اور ووٹروں کی حوصلہ شکنی کی گئی۔

خیال رہے کہ گلگت بلتستان اسمبلی کی 24 نشستوں پر انتخابات 15نومبر کو ہوئے جس میں 4 خواتین سمیت 330 اُمیدواروں نے حصہ لیا تاہم ایک حلقے میں انتخابات ملتوی ہوگئے ہیں۔تحریر جاری ہے‎

ووٹنگ کا عمل بغیر کسی تعطل کے صبح 8 سے شام 5 بجے تک جاری رہا مزید یہ کہ گلگت بلتستان، پنجاب، خیبرپختونخوا، سندھ اور بلوچستان سے تعلق رکھنے والے 15 ہزار سیکیورٹی اہلکاروں کو تعینات کیا گیا۔

انتخابات کے موقع پر ایک ہزار 141 پولنگ اسٹیشنز میں سے 297 کو حساس قرار دیا گیا تھا۔

اس مرتبہ کے انتخابات کو اس لیے بھی خاصی اہمیت حاصل تھی کہ اس کے لیے اپوزیشن کی 2 جماعتوں کے علاوہ حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف نے بھرپور مہم چلائی تھی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں