43

اپوزیشن نے این آر او کیسے مانگا؟ شبلی فراز کا تفصیلات میں اہم انکشاف

اسلام آباد : (الشامی نیوز) وفاقی وزیراطلاعات شبلی فراز نے کہا ہے کہ ایف اے ٹی ایف بل پر اپوزیشن کے مذاکرات محض اپنے ذاتی مفادات کے لیے تھے، اعداد و شمارسے عوام کو معلوم ہوجائے گا کہ این آراو کس نے مانگا تھا؟

اسلام آباد میں اہم نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراطلاعات نے اہم انکشافات عوام کے سامنے بیان کردیئے، ان کا کہنا تھا کہ ایف اے ٹی ایف بل پر اپوزیشن کے مذاکرات اپنی ذات کے لیے تھے۔

نیوز کانفرنس میں تفصیلات بیان کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات شبلی فراز نے بتایا کہ میں ایف اے ٹی ایف بل پرمذاکرات کرنے والی کمیٹی کا ممبر تھا، جس کی صدارت شاہ محمود قریشی کررہے تھے۔

جب میٹنگ شروع ہوئی تو اپوزیشن کی جانب سے پہلاسوال یہ ہوا کہ نیب کا بل کہاں ہے؟ شاہ محمود نے کہا کہ نیب بل پر بعد میں مذاکرات کرلیں گے، اپوزیشن نے کہا کہ نہیں پہلے نیب بل پر مذاکرات ہوں گے۔

شبلی فراز نے کہا کہ نیب کے38کلاز میں سے 34میں اپوزیشن نے ترامیم مانگیں، اپوزیشن نے ایف اے ٹی ایف بل کے مقابلے میں نیب بل کو لا کر حکومت سے این آر او مانگا، یہ چاہتے تھے کہ 1999سے تمام کیسز ختم ہوجائیں، بعد ازاں ان کے پارلیمانی لیڈرز اجلاس چھوڑ کر چلے گئے۔

انہوں نے بتایا کہ اپوزیشن نے نیب قابون پر عمل داری1999 سے کرنے کا مطالبہ کیا،1999کا مقصد یہ تھا کہ اس وقت تک جتنی کرپشن کی گئی وہ ساری حلال ہوجاتی، دوسری تجویز تھی کہ نیب 1ارب سے کم کرپشن پر ایکشن نہیں لے سکتا، اس کے علاوہ اپوزیشن نے منی لانڈرنگ کو بطور جرم ہٹانے کی ترمیم بھی پیش کی۔

وزیراطلاعات کا کہنا تھا کہ وزیراعظم اکثر کہتے ہیں کہ این آراو نہیں دوں گا، عوام کوپتہ ہونا چاہیے کہ اس این آراو کا پس منظر کیا ہے؟ اپوزیشن دعویٰ کرتی ہے کہ ہم نےاین آر او نہیں مانگا، چوتھی تجویز بےنامی دار قانون سے اہلیہ اور بچوں کو باہر نکالنا تھا، اپوزیشن کی تجویز تھی کہ نیب قانون کی عملداری1999سے کی جائے، ایسی تجویز منظورکی جاتی تو1999تک غیرقانونی اثاثے قانونی ہوجاتے۔

منی لانڈرنگ کو بطور جرم ہٹانے کی تجویز 

اپوزیشن کی تجویزتھی کہ منی لانڈرنگ کی شق پر بطور جرم ہٹادیا جائے، منی لانڈرنگ کی تجویز کے بینفشری شہبازشریف، زرداری اور فریال تالپور ہیں،اپوزیشن کی تجویز تھی کہ منی لانڈرنگ کو جرم نہ سمجھا جائے۔ بےنامی سے متعلق اپوزیشن اراکین نے کہا کہ بچوں اوراہلیہ کو نکالا جائے۔

انہوں نے کہا کہ یہ لوگ اہم اداروں کو ٹارگٹ کرکے این آراو کیلئے دباؤ ڈال رہے ہیں، اپوزیشن کو قانون کی پرواہ ہے نہ لوگوں کی جان کی فکر ہے، ان کا مقصد اپنی کرپشن کو چھپاناہے یہ کرپٹ اور نااہل لوگ ہیں، انہوں نے نیب کے پر کاٹنےکی کوشش کی جس میں کامیاب نہیں ہوئے۔

شبلی فراز نے کہا کہ یہ لوگ کہتے ہیں کہ این آراو ہم نے نہیں مانگا، اپوزیشن نے نیب ترمیم کی صورت میں این آراو مانگا جو ہم نے نہیں دیا، اپوزیشن والے جمہوری حکومت کو ہٹانے کے لیے لگے ہوئے ہیں، ایک طرف ووٹ کو عزت دو اور دوسری طرف ان کابیانیہ غیرجمہوری ہے، دو سال تک یہ سوئے ہوئے تھے ان کو امید تھی کہ این آر او مل جائے گا ناکامی پر اب جلسےجلوس کررہے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں