77

ان کے کہنے پر کام نہیں کرنا، انکی گالیاں کھانے کے لیے عدلیہ نہیں بیٹھی ہوئی بلکہ ہم عوام کے نوکر ہیں، چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ

ہائیکورٹ نے لاہور کے شہری کو ہراساں کرنے کے خلاف درخواست کی  سماعت کی جس کے دوران سی سی پی او لاہور عمر شیخ ، ڈی سی لاہور اور ایس پی کینٹ کو طلب کرلیا گیا۔

درخواست گزار نے بتایا کہ ڈیفنس میں دو کنال اراضی کا مالک ہوں اور مجھے سی سی پی او لاہور کے کہنے پر ہراساں کیا جا رہا ہے۔

چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے سرکاری وکیل سے کہا کہ شہر میں ڈکیتیاں چوریاں اسی طرح ہو رہی ہیں، جو دعویٰ تھا تین ماہ میں سب ٹھیک ہو جائے گا کچھ نہیں ہوا، اپنے اس افسر سے کہہ دیں جو کہتا ہے کہ عدالتیں ضمانتیں لے لیتی ہیں، اس کو بتائیں عدالتیں قانون کے مطابق ضمانتیں لیتی ہیں، عدالتیں پولیس کی ماتحت نہیں یہ بات سی سی پی او کے کان میں ڈال دیں، ان کی اپنی نالائقی ہے کہ ملزمان بری ہو جاتے ہیں اور ذمہ داری عدالتوں پر ڈال دی جاتی ہے، آپ کے شکرے یہاں گدھ بن کر بیٹھے ہیں لیکن ان کے کہنے پر کام نہیں کرنا، انکی گالیاں کھانے کے لیے عدلیہ نہیں بیٹھی ہوئی بلکہ ہم عوام کے نوکر ہیں

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ایڈووکیٹ جنرل آفس کی ذمہ داری ہے عدلیہ کے بارے میں توہین آمیز باتیں کرنے والے کے خلاف توہین عدالت کی درخواستیں دائر کریں، سی سی پی او کے تمام انٹرویوز کو سنیں اور رپورٹ دیں، آئین اور قانون کے ماورا کام کی اجازت نہیں ہو گی، عدلیہ کے بارے میں توہین آمیز ایک لفظ برداشت نہیں کریں گے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں