51

ادارے اپنے آپ کو سیاست میں نہ ملوث کریں۔ ادارے بہت مقدس ہیں اور انھیں مقدس رہنا چاہئے جنوری سے بہت پہلے کام ختم ہوجائے گا: مریم نواز

پاکستان مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے کہا ہے کہ آل پارٹیز کانفرنس نے [حکومت کے خاتمے کی] حتمی تاریخ جنوری کی دی ہوئی ہے تاہم انھیں لگتا ہے کہ جنوری سے بہت پہلے ‘کام ختم ہوجائے گی

بی بی سی کو انٹرویو میں مریم کا کہنا تھا کہ ‘میں خوف میں تھی، ہمارا مقابلہ کم ظرف لوگوں سے ہے۔’

انہوں نے دعویٰ کیا کہ اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے قریبی ساتھیوں کے ذریعے رابطے کیے گئے ہیں۔ میرے ساتھ براہِ راست کسی نے رابطہ نہیں کیا۔

ن لیگ کی نائب صدر مریم نواز نے کہا کہ فوج میرا ادارہ ہے، ضرور بات ہوگی لیکن آئین کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے۔

مریم نواز نے حکومت سے مذاکرات کے سوال پر جواب دیتے ہوئے کہا کہ ڈائیلاگ تو عوام کے ساتھ ہو گا۔ انسپکٹر جنرل پولیس سندھ کے معاملے پر جواب نہیں ملے بلکہ مزید سوالات پیدا ہوئے ہیں۔

انہوں ن کہا کہ آئین کے مطابق عوامی ردعمل کا جواب دینا منتخب حکومت کا کام ہے۔ ان ہاؤس تبدیلی یا مائنس عمران خان؟جب وقت آئے گا دیکھا جائے گا۔

مریم نواز کا کہنا تھا کہ ملک کو بحران سے نکالنے کیلئےعمران خان اور حکومت کو گھر جانا ہو گا۔ نئے شفاف انتخابات کروائے جائیں اور عوام کی نمائندہ حکومت آئے۔تحریک انصاف کے ساتھ اتحاد انہیں معافی دینے کے مترادف ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی سے الحاق کا نہیں، احتساب کا وقت ہے۔ یہ خود چیزیں غائب کرتے ہیں اور مہنگائی کر کے مارکیٹ میں لے آتے ہیں

انھوں نے کہا کہ ان کے والد اور سابق وزیر اعظم پاکستان نواز شریف کے سوالوں کا جواب یہ نہیں کہ انھیں غدار قرار دیا جائے۔

انھوں نے یہ بھی کہا کہ انھیں خاموش کرنے والے ‘اب خاموش خود ہوں گے۔’

اپوزیشن کی حکومت مخالف تحریک کے حوالے سے جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا (اسمبلیوں سے) استعفے دیے جائیں گے انھوں نے کہا کہ اس کے لیے استعفے دینے پڑے تو استعفے بھی دیں گے۔

واضح رہے کہ پاکستان کی حزبِ اختلاف کی بڑی جماعتوں نے پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے نام سے ایک حکومت مخالف اتحاد قائم کیا ہے۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی اس میں پیش پیش ہیں جبکہ جمعیت علماء اسلام (ف) کو اس احتجاجی تحریک کا ایک اہم کردار تصور کیا جا رہا ہے۔

حزب اختلاف کی سیاسی جماعتوں کی حکومت مخالف آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) کے بعد تیار کردہ ایکشن پلان میں جنوری میں لانگ مارچ کا اعلان کرنے کے ساتھ اسٹیبلشمنٹ سے سیاست میں مداخلت بند کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔

مریم نواز نے کہا کہ انھیں یہ بھی یقین ہے کہ ‘نہ یہ آئینی حکومت ہے اور نہ یہ منتخب حکومت ہے۔’

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ (اپوزیشن) حکومت سے بات چیت کریں گے، تو مریم نواز نے کہا کہ وہ اسے ‘حکومت سمجھتی ہی نہیں۔’

‘یہ حکومت حکومت کہلانے کی اہل نہیں ہے۔ اس کو حکومت کہنا، اس کو منتخب حکومت کہنا، منتخب ہونے کی توہین ہے، عوامی نمائندوں کی توہین ہے۔ میں نے اس کو کبھی حکومت نہ سمجھا، نہ عمران خان کو وزیرِ اعظم کہا، نہ دل سے سمجھا۔’

اس سوال کہ جواب میں کہ اگر اپوزیشن سے ‘اداروں’ کی سطح پر کسی نے رابطہ کیا تو وہ کیا مطالبات رکھیں گے، تو انھوں نے کہا کہ ہمارا کوئی مطالبہ نہیں۔

‘ہمارا صرف یہ مطالبہ ہے کہ ادارے اپنے آپ کو سیاست میں نہ ملوث کریں۔ ادارے بہت مقدس ہیں اور انھیں مقدس رہنا چاہیے۔’

مریم نواز سے جب پوچھا گیا کہ کیا مسلم لیگ (ن) کو ‘کہیں سے’ آشیرباد ہے، تو اس پر مریم نواز نے جوابی سوال پوچھا کہ ‘اگر مسلم لیگ (ن) کو کہیں سے آشیرباد ہوتی تو کیا وہ اس طرح جدوجہد میں اتر جاتی؟’

مریم نواز نے کہا کہ سی سی پی او نے نواز شریف کے خلاف پرچہ کاٹنے سے قبل وزیرِ اعظم کے دفتر سے اجازت لی تھی۔

انھوں نے کہا کہ یہ بات اُن کے ‘سننے میں آئی ہے۔’

مریم نے کہا کہ (پرچہ درج کروانے والا) خود ایک تحریکِ انصاف کا کارکن ہے اور اس کا مجرمانہ ریکارڈ ہے۔

انھوں نے کہا کہ میاں نواز شریف پر جو غداری کا الزام لگا ہے وہ اُن پر تو ثابت نہیں ہوگا، لیکن اِن کے اپنے اوپر ثابت ہوگا۔ ‘پاکستانی فوج کے بارے میں اور پاکستانی فوج کے اوپر جو انھوں نے الزامات لگائے ہیں، اور بطورِ وزیرِ اعظم بھی انھوں نے ایک دو بیان جو دیے ہیں ادھر ادھر، غداری کے زُمرے میں تو وہ آتے

اپنی زیر صدارت پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلیوں اور سینیٹرز کے ایک مشترکہ اجلاس سے خطاب میں سابق وزیر اعظم نے کہا تھا ‘ہماری فوج کا بڑا حصہ آئین کی پاسداری کرتا ہے، صرف چند لوگ جنھیں انگلیوں پر گنا جا سکتا ہے باقی فوج کو بھی بدنام کرتے ہیں۔’

مریم نواز سے جب پوچھا گیا کہ مسلم لیگ (ن) جب بالکل تصادم کی راہ پر ہے اور اس کا بیانیہ حکومت مخالف کے بجائے اسٹیبلشمنٹ مخالف ہے تو پارٹی کی بقا کیسے رہے گی، تو اس پر مریم نواز نے کہا کہ یہ بیانیہ اسٹیلبشمنٹ کے خلاف نہیں بلکہ ‘حدود سے تجاوز کرنے’ کے خلاف ہے۔

انھوں نے کہا کہ میاں نواز شریف کا بہت واضح مؤقف ہے کہ جو تاثر بنا دیا جاتا ہے کہ کوئی بیانیہ اداروں کے خلاف ہے، ایسا نہیں ہے۔

مریم نواز نے کہا کہ میاں نواز شریف کا مؤقف یہ ہے کہ ہر ادارے کو اپنے اپنے دائرہ کار میں رہتے ہوئے کام کرنا چاہیے جو آئین میں متعین

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں