76

آئی جی سندھ مہرمشتاق کو اغواء نہیں کیا گیا، بلکہ وہ حالتِ غیر میں تھے ، سینئر صحافی سمیع ابراہیم کا دعویٰ

آئی جی سندھ مہرمشتاق کو اغواء نہیں کیا گیا، بلکہ وہ حالتِ غیر میں تھے

لاہور(الشامی نیوز) آئی جی سندھ پولیس مہرمشتاق پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ آئی جی سندھ کو اغواء نہیں کیا گیا، بلکہ وہ حالتِ غیر میں تھے، آئی جی نے جو کچھ بھی کھایا پیا ہوا تھا، اس حالت میں وہ بات کرنے کی پوزیشن میں نہیں تھے، وہ بار بار کہہ رہے تھے کہ وزیراعلیٰ سندھ مقدمہ درج کرنے سے منع کیا ، وہ خود چل کر گئے اور وہاں پر جب بات سمجھ میں آگئی تومقدمہ درج کرنے کا حکم دیا۔سینئر صحافی سمیع ابراہیم نے اپنے تبصرے الزام عائد کیا ہے کہ آئی جی سندھ کے اغواء کی تحقیقات سے متعلق میرے پاس جو معلومات آئی ہیں، ان کے تحت ذرائع نے بتایا ہے کہ آئی جی سندھ پولیس اس رات حالتِ غیر میں تھے۔ ان کو جب فون کیا گیا، توان سے کسی قسم کی گفتگو نہیں ہوپارہی تھی ، وہ اس قدر متاثر تھے۔

آئی جی سندھ نے جو کچھ بھی کھایا پیا ہوا تھا، اس حالت میں وہ کسی بات کی پوزیشن میں نہیں تھے، وہ ٹیلیفون پر بھی کوئی بات نہیں سمجھ پا رہے تھے۔جب ان کے گھر آکر آئی جی کو کہا گیا کہ آپ فون سن لیں، اس پر آئی جی سندھ مہر مشتاق نے کہا کہ میں خود ساتھ چلتا ہوں۔لیکن وہ بار بار یہ بات کررہے تھے کہ مجھے وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے منع کیا ہے کہ کوئی ایف آئی آر درج نہیں کرنی اور نہ ہی کوئی گرفتاری کرنی ہے۔لیکن اس کے برعکس گورنر سندھ اور دوسرے اداروں کے لوگ چاہتے تھے کہ مقدمہ درج کیا جائے۔لہذا معاملہ اغواء کا نہیں تھا،بلکہ جب ان کو فون کیا گیا تو وہ فون کاٹ رہے تھے اور ان کو کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا، نہ ہی وہ اس طرح کی حالت میں کچھ سمجھا پا رہے تھے۔جب ان کو کہا گیا کہ تو وہ کہتے میں خود ساتھ چلتا ہوں، سی سی ٹی وی ویڈیو بھی جلد منظر عام پر آجائے گی ۔ لیکن وہاں پر جب ان کو ساری بات سمجھ آگئی تو انہوں نے مقدمہ درج کرنے کا حکم دے دیا۔لیکن بعد میں وزیراعلیٰ سندھ نے جب ان سے پوچھا تو کہتے مجھے اغواء کیا گیا تھا۔لیکن وہ سارا دن کام کرتے رہے۔ مریم نواز نے ساری بات اپنے والد سابق وزیر اعظم نواز شریف کو بتائی تو نوازشریف اور آصف زرداری کے درمیان رابطہ ہوا، پھر بلاول بھٹو نے آئی جی سندھ کو کہا کہ آپ اپنے بیان پر قائم رہنا۔آئی جی سندھ نے اس سے انکار کیا، کیونکہ وہ اس وقت ہوش میں تھے۔لیکن بعد میں انہوں نے چھٹی کی درخواست دے دی۔معاملے کی تحقیقات جاری ہیں اورحتمی مراحل میں ہیں۔ اس سارے معاملے میں جن لوگوں نے اداروں کے حوالے سے منفی تاثر دیا ، آئی جی سمیت ادارے کا اگر کوئی فرد شامل ہے، وہ نہیں بچ پائیں گے اور سندھ حکومت میں بھی جو ذمہ دار ہوا ، ان کے خلاف کاروائی کی جائے گی۔خیال رہے سینئر صحافی سمیع ابراہیم کا فی الحال یہ الزام ہی سمجھا جائے گا، کیونکہ اس واقعے کی اعلیٰ سطح پر تحقیقات جاری ہیں، ان تحقیقات کا حکم آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے دیا ہے۔ اسی طرح واقعے کی سندھ حکومت بھی تحقیقات کررہی ہے۔ جب تک تحقیقات کی حتمی سرکاری رپورٹ سامنے نہیں آجاتی تب تک سمیع ابراہیم کی اس رپورٹ کو محض الزام کے ذمرے میں ہی لیا جاسکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں