86

گاجر کے چند فوائد اور شفا بخش اجزا کے بارے میں جانیے

اسلام آباد(آباد نیوز) گاجر دنیا بھر میں ایک مقبول سبزی ہے۔ یہ مقوی اور مصفٰی غذا ہے۔ گاجر کے سبز پتے بھی غذائیت سے بھرپور ہوتے ہیں۔ ان میں پروٹین، معدنیات اور وٹا منز وافر مقدار میں پائے جاتے ہیں۔

موسمِ‌ سرما میں‌ گاجر کا استعمال نہایت مفید ہے۔ پاک و ہند میں خاص طور پر سردیوں میں‌ گاجر کا حلوہ بنایا جاتا ہے اور اسے ایک سوغات کہا جاتا ہے جو کھانے کے بعد مہمانوں کی تواضع کے لیے پیش کی جاتی ہے۔ گاجر کے حلوے کو مختلف اجزا سے لذیذ بناتے ہوئے مختلف انداز سے سجا کر پیش کیا جاتا ہے۔

گاجر ہمارے لیے ایک بہترین غذا ہے جس میں موجود کیروٹین نامی مادّہ جو وٹامن کی ابتدائی شکل ہوتا ہے، اس سبزی کے انگریزی نام کیرٹ سے ہی ماخوذ ہے۔ یہی کیروٹین ہمارے جسم میں جا کر قدرتی نظام کے تحت جگر کے ذریعے وٹامن اے کی صورت اختیار کرلیتا ہے۔

گاجر کے فائدے اور اس کے شفا بخش اجزا

طبی ماہرین کے مطابق گاجر میں موجود کھارے اجزا خون کو صاف کرتے ہیں۔ یہ پورے جسم کی نشوونما کرتے ہیں اور گاجر بدن میں تیزابیت اور کھار کا توازن برقرار رکھنے کا ذریعہ بھی ہے۔

گاجر کا مشروب بھی ” کرشماتی” کہلاتا ہے۔ یہ بچّوں اور بڑوں سبھی کے لیے صحت بخش اور افادی ہے۔ یہ آنکھوں کو توانائی دیتا ہے۔ جلد کو تازگی بخشتا ہے۔

گاجر چبا کر کھانے سے دانتوں کے امراض سے بھی بچا جاسکتا ہے۔ کھانا کھانے کے بعد اگر ایک گاجر چبا کر کھائی جائے تو منہ میں خوراک کے ذریعے پہنچنے والے بعض مضر جراثیم ختم ہو جاتے ہیں۔

گاجر ہاضمے کی خرابیاں بھی دور کرتی ہے۔ گاجر چبا کر کھانے سے لعابِ دہن میں اضافہ ہوتا ہے جس کے نتیجے میں ہاضمہ کا عمل تیز ہو جاتا ہے، کیوں کہ یہ معدے کو ضروری اینزائمز، معدنی اجزا اور وٹامنز مہیا کرتی ہے۔

گاجر کا جوس انتڑیوں کے قولنج ، بڑی آنت کی سوزش، السر اور بدہضمی میں مؤثر علاج ہے۔

پیٹ کے کیڑے خاص طور پر بچّوں‌ کا ایک تکلیف دہ مسئلہ ہے۔ طبیب اس کے لیے گاجر کا استعمال تجویز کرتے آئے ہیں۔ گاجر ہر قسم کے طفیلیوں (جراثیم، بیکٹیریا وغیرہ) کی دشمن ہے۔ یہ بچّوں کے پیٹ سے کیڑے خارج کرنے کے لیے بہت مفید ہے۔ ایک چھوٹے کپ میں‌ کدو کش کی ہوئی گاجر کو صبح کے وقت کھایا جائے تو یہ پیٹ کے کیڑوں کو تیزی سے خارج کرتی ہے۔

کیٹاگری میں : صحت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں