57

کیا کورونا وائرس نے انفلوئنزا کو ختم کردیا؟ ماہرین کا نیا انکشاف

جان اسلام آباد : (الشامی نیوز ) جان لیوا عالمی وبا کورونا وائرس کے بعد انفلوئنزا کے کیسز میں98فیصد کمی واقع ہوئی ہے اس بات کا انکشاف ماہرین نے ایک مطالعے میں کیا ہے۔

کوویڈ19 ایک نئی بیماری ہے جو زیادہ تر بوڑھے افراد کو متاثر کرتی ہے جبکہ 19سو 18 میں آنے والے انفلوئنزا نے دنیا بھر میں20سے 30 سال کی عمر کے افراد کو جن کے مضبوط مدافعتی نظام تھے انہیں اپنا شکار بنایا تھا۔

انفلوئنزا یعنی فلو پھیپھڑوں کا انفیکشن ہے جو وائرس کے ذریعے ہوتا ہے، لوگوں کو سال میں کسی بھی وقت فلو ہوسکتا ہے لیکن اس کا حملہ موسم خزاں اور سردیوں میں زیادہ ہوتا ہے۔

اس حوالے سے ماہرین کا کہنا ہے کہ کیونکہ انفلوئنزا کے معاملات پوری دنیا میں98 فیصد کم ہیں جو کہ گزشتہ سال کی نسبت بہت کم ہیں، ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) کے اعداد و شمار میں بھی انفلوئنزا کیسز میں تیزی سے کمی آئی ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق بہت سی حکومتوں کو حالیہ موسم سرما میں خوفناک صورتحال کا خدشہ تھا کہ انفلوئنزا اور کورونا وائرس صحت کے حوالے سے کیے گئے اقدامات کو تباہی کے کنارے پر دھکیل دیں گی کیونکہ فلو سے ہر سال 10،000 برطانوی افراد کو ہلاک ہوجاتے تھے اور اب کوویڈ19 کی ایک دوسری مہلک لہر کے باعث اس کی تعداد میں کئی گنا اضافہ ہوسکتا تھا۔

اسی تشویش کے پیش نظر برطانوی حکومت نے تاریخ کا سب سے بڑا فلو ویکسینیشن پروگرام شروع کیا، تازہ ترین اطلاعات کے مطابق ویکسین کا استعمال پہلے سب سے زیادہ 65 سال سے زیادہ اور کم عمر بچوں میں ہوا ہے، لیکن ایک عجیب مسئلہ درپیش ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ اب فلو ختم ہوگیا ہے۔

ماہرین کے مطابق انفلوئنزا کے کیسز میں کمی کا انکشاف اس وقت شروع ہوا جب رواں سال مارچ میں فلو سیزن کے اختتام کے موقع پر کوویڈ19 بپھیلا ہوا تھا۔ اور اس کی تصدیق ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) کے جمع کردہ اعداد و شمار میں بھی ہوئی۔

دنیا کے تقریباً نصف حصے میں جہاں موسم گرما کے مہینوں میں فلو کا زور ہوتا ہے، آسٹریلیا میں رواں سال اپریل میں صرف 14مثبت فلو کے کیسز ریکارڈ کیے گئے تھے جبکہ2019 میں اسی ماہ کے دوران 367اس میں 96 فیصد کی کمی سامنے آئی تھی۔

ڈبلیو ایچ او کے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ اس سے پہلے کبھی بھی ایسا نہیں ہوا، اس کے علاوہ چلی میں اپریل اور اکتوبر کے درمیان فلو کے صرف 12 کیسز کا پتہ چلا جبکہ 2019 میں اسی عرصے کے دوران قریب7،000تھے۔

کیٹاگری میں : صحت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں