54

پیکٹ والا دودھ کیوں استعمال کرنا چاہیے؟ ماہر صحت نے بتا دیا

کراچی : (الشامی نیوز )پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے سیکیرٹری جنرل ڈاکٹر قیصر سجاد نے کہا ہے کہ کھلا دودھ انسانی صحت کیلئے انتہائی خطرناک ہے کیونکہ اس کے دوہنے سے لے کر سپلائی تک کے نظام میں حفظان صحت کے اصولوں کا خیال نہیں رکھا جاتا۔

پروگرام سوال یہ ہے میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ باڑوں میں دودھ کی مقدار بڑھانے کیلئے بھینسوں کو مختلف قسم کے انجکشنز لگائے جاتے ہیں جس کے مضر اثرات لازمی طور پر دودھ پر بھی پڑتے ہیں۔

ڈاکٹر قیصر سجاد کا کہنا تھا کہ کھلے دودھ کو ابالنے سے صرف اس میں موجود جراثیم ہی نہیں مرتے بلکہ دودھ میں کیلشئیم فیٹس منرلز اور کاربو ہائیڈریٹس کی تعداد بھی کم ہوجاتی ہے جو صحت کیلئے بھی ضروری ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ہم نے پیکٹ کے دودھ بنانے والی کمپنیوں میں جاکر اس کا خود مشاہدہ کیا ہے کہ کس طرح دودھ کو پیک کیا جاتا ہے اس میں کہیں بھی انسانی ہاتھوں کا استعمال نہیں کیا جاتا سارا کام جدید مشینوں سے لیا جاتا ہے۔

ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ اگر دودھ میں مضر صحت اجزا باقی رہ جائیں تو یہ دودھ چھاتی، رحم اور پروسٹٹ کینسر کا سبب بن سکتا ہے۔ لہٰذا کھلے دودھ سے اجنتاب کیا جائے اور ڈبے کے بند دودھ کے لیے کسی معیاری کمپنی کا انتخاب کیا جائے۔

پروسیسڈ دودھ جیسے پنیر اور دودھ سے بنی دیگر مصنوعات میں اضافی اور غیر ضروری اشیا جیسے مصنوعی رنگ اور مٹھاس شامل کی جاتی ہے۔ یہ وزن میں اضافے کا باعث بنتی ہیں۔

مندرجہ بالا تمام صورتوں میں دودھ سے پرہیز کرنے اور اس سے ہونے والی تکالیف کے لیے ڈاکٹر سے فوری طور پر رجوع کرنے کی ضرورت ہے۔

کیٹاگری میں : صحت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں