61

علاج کی فیس دس روپے، بھارت کی مسلم ڈاکٹر کا غریبوں‌ کے لیے زبردست اقدام

نئی دہلی: (الشامی نیوز/آن لائن نیوز) بھارت کی نوجوان مسلم خاتون ڈاکٹر نے دس روپے فیس کے عوض مریضوں کا علاج شروع کردیا۔

بھارتی میڈیا رپورٹ کے مطابق بھارتی ریاست آندرا پردیش کے شہر کپاڑہ سے تعلق رکھنے والی لیڈی ڈاکٹر نوری پروین خود متوسط طبقے سے تعلق رکھتے ہیں اور وہ اپنا نجی اسپتال چلا رہی ہیں۔

ڈاکٹر پروین نے بتایا کہ وہ بلا تفریق رنگ و نسل اور مذہب مریضوں کا علاج صرف دس روپے میں کرتی ہیں، اگر کسی شخص کے پاس اتنے بھی پیسے نہیں ہوں تو وہ بالکل مفت دوا لے سکتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اسپتال کے قیام کا مقصد دکھی انسانیت کی خدمت کرنا ہے جس پر ہم عمل پیرا ہیں اور کوشش ہے کہ کوئی بھی شخص علاج و معالجہ نہ ملنے کی شکایت نہ کرے۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق اسپتال میں مسلمانوں، ہندوؤں، سکھ سمیت تمام مذاہب کے افراد اور بالخصوص نچلی ذات کے ہندو بھی آتے اور اپنا علاج کرواتے ہیں، ڈاکٹر کے چیک اپ اور دوا کی فیس صرف 10 روپے ہے۔

بھارتی میڈیا کو ڈاکٹر پروین نے بتایا کہ ’میں نے میڈیکل کی تعلیم غریبوں کو مدد فراہم کرنے کےلیے ہی حاصل کی تھی، ڈگری ملنے کے بعد میں نے کپاڑہ میں ہی اپنا کلینک کھولا جو اب اسپتال میں تبدیل ہوچکا ہے‘۔انہوں نے بتایا کہ ’اسپتال میں داخل افراد سے صرف پچاس روپے فیس لی جاتی ہے‘۔

رپورٹ کے مطابق اس اسپتال میں روزانہ پسماندہ طبقے سے تعلق رکھنے والے چالیس سے زائد مریض آتے ہیں۔ مریضوں کا کہنا ہے کہ انہیں ڈاکٹر پروین کی دوا سے آرام ملتا ہے، اسی وجہ سے اب تک سیکڑوں مریض صحت یاب ہوچکے ہیں۔

کیٹاگری میں : صحت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں